سرورققومی خبریں

دہلی فسادات کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کو تیسری بار بھی ضمانت نہ مل سکی

دہلی ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں

نئی دہلی، 30 ستمبر 2026 (اردودنیانیوز/ایجنسیز) 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک بار پھر عدالت سے ضمانت نہیں مل سکی۔ دہلی ہائی کورٹ نے دونوں کی تیسری درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم میں مقرر کی گئی شرائط کو تبدیل کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ دونوں ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے کڑکڑڈوما عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 5 جنوری 2026 کے اپنے حکم میں دونوں کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے مخصوص حالات میں دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی گنجائش دی تھی، اس لیے ہائی کورٹ ان شرائط کو اپنی طرف سے تبدیل نہیں کرسکتی۔

سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام دوبارہ ضمانت کی درخواست اس وقت دائر کرسکتے ہیں جب استغاثہ کی جانب سے محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہوجائے یا 5 جنوری 2026 کے حکم سے ایک سال مکمل ہوجائے، جو بھی پہلے ہو۔ دہلی ہائی کورٹ نے اسی قانونی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ درخواستوں پر دونوں کو راحت دینے سے انکار کردیا۔

دفاع کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے جنوری کے فیصلے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ وکلا نے طویل حراست اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی۔ سپریم کورٹ میں ایک دوسرے معاملے کے دوران زیر غور قانونی سوال کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں طویل حراست اور ٹرائل میں تاخیر کے باوجود UAPA کی سخت ضمانتی پابندیوں کے اطلاق سے متعلق معاملہ بڑی بینچ کے سامنے بھیجا گیا ہے۔

دہلی پولیس نے ان دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے معاملے میں قانونی سوال کو بڑی بینچ کے حوالے کیے جانے سے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں سپریم کورٹ کا سابقہ حکم ختم یا تبدیل نہیں ہوجاتا۔ پولیس نے عدالت میں دونوں کے خلاف موجود مواد اور مقدمے میں ان کے مبینہ کردار کا بھی حوالہ دیا۔

دہلی پولیس کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام پر 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے قبل اور اس دوران ایک مبینہ بڑی سازش میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے دونوں کو مبینہ سازش میں اہم کردار رکھنے والا قرار دیتے ہوئے ضمانت کی مخالفت کی ہے۔ یہ الزامات ہیں اور مقدمے میں حتمی فیصلہ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) سے متعلق احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس کے بعد دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے مبینہ بڑی سازش سے متعلق مقدمے کی تحقیقات کیں۔ پولیس کے مطابق ان فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس مقدمے میں خالد سیفی، سابق AAP کونسلر طاہر حسین اور دیگر افراد بھی ملزم ہیں۔ مختلف ملزمان نے مقدمے میں عائد الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ عدالت میں ہر ملزم کے خلاف شواہد اور قانونی دلائل الگ الگ زیر غور آتے رہے ہیں۔

شرجیل امام کو اس مقدمے میں 25 اگست 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں کئی برس سے اس مقدمے میں جیل میں ہیں اور ان کے خلاف ٹرائل جاری ہے۔

کڑکڑڈوما عدالت نے 4 جولائی 2026 کو دونوں کی تازہ ضمانتی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ نچلی عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم کو بنیاد بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس حکم کی پابندی کرنے کی پابند ہے۔ اس کے بعد عمر خالد اور شرجیل امام نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اسی مقدمے میں سپریم کورٹ نے بعض دیگر ملزمان کو ضمانت دی ہے، جبکہ بعد میں طویل حراست اور ٹرائل میں تاخیر سے متعلق قانونی سوال بھی بڑی بینچ کے سامنے بھیجا گیا۔ تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے سابقہ مخصوص حکم کو بنیاد بناتے ہوئے موجودہ مرحلے پر ضمانت دینے سے انکار کردیا۔

ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد عمر خالد اور شرجیل امام کی تیسری ضمانت کی کوشش بھی ناکام ہوگئی ہے۔ دونوں کے خلاف درج مقدمے میں قانونی کارروائی اور ٹرائل جاری ہے، جبکہ مقدمے میں لگائے گئے الزامات پر حتمی فیصلہ عدالت کی جانب سے شواہد اور سماعت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button