بین الاقوامی خبریں

ملائیشیا نے 1,476 میانمار شہریوں کی واپسی شروع کردی، روہنگیا کی سلامتی پر اقوام متحدہ کو تشویش

روہنگیا کی واپسی پر سلامتی اور انسانی حقوق کے خدشات برقرار ہیں۔

کوالالمپور، 30 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز)ملائیشیا نے میانمار کے 1,476 شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کے پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کردیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میانمار میں جاری تنازع کے باعث اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واپس بھیجے جانے والے افراد کی سلامتی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ملائیشیا کے مطابق یہ واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر کی جارہی ہے اور مجموعی طور پر تقریباً 5,000 میانمار شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

ملائیشیا کی وزارت داخلہ کے مطابق پہلے مرحلے میں شامل 1,476 افراد کو میانمار حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کی بنیاد پر شناخت کیا گیا۔ ان افراد کو ملک کے مختلف امیگریشن حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا۔ حکام کے مطابق واپسی کا عمل دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے کے ذریعے مکمل کیا جارہا ہے۔

واپسی کے لیے میانمار بحریہ کے تین بحری جہاز استعمال کیے گئے، جن میں ایک اسپتال جہاز بھی شامل ہے۔ ملائیشیا کے لوموت نیول بیس سے روانگی سے قبل شہریوں کو پولیس کی نگرانی میں بسوں کے ذریعے قریبی اسٹیڈیم منتقل کیا گیا، جہاں ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں بحری اڈے پہنچایا گیا۔

ملائیشیا کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام ملک میں موجود غیر ملکی پناہ گزینوں اور غیر دستاویزی تارکین وطن کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی حکومتی کوشش کا حصہ ہے۔ وزارت کے مطابق میانمار کے شہری ملائیشیا میں موجود غیر ملکی پناہ گزینوں کا بڑا حصہ ہیں اور حکومت واپسی کے عمل کو دستاویزی جانچ، شناخت اور سکیورٹی کے تقاضوں کے ساتھ مرحلہ وار مکمل کررہی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے تقریباً 1,500 افراد کی میانمار واپسی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ایسے شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے ظلم، تشدد، سنگین نقصان یا زندگی اور سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔

خاص طور پر روہنگیا برادری کے حوالے سے خدشات زیادہ ہیں۔ ملائیشیا میں موجود میانمار کے پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد میں روہنگیا کی تعداد نمایاں ہے، تاہم پہلے مرحلے میں واپس بھیجے جانے والے 1,476 افراد میں کتنے روہنگیا شامل ہیں، ملائیشیا اور میانمار کی حکومتوں نے اس کی تفصیلی تعداد جاری نہیں کی۔

روہنگیا مسلمان برادری کو میانمار میں طویل عرصے سے شہریت، نقل مکانی اور سلامتی سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں روہنگیا 2017 میں میانمار کی فوجی کارروائی کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی تھی، جبکہ میانمار میں 2021 سے جاری مسلح تنازع نے انسانی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ میانمار تقریباً 5,000 روہنگیا افراد کو واپس لینے پر آمادہ ہوا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب کوالالمپور میں اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے دفتر کے باہر جمع ہونے والے 100 سے زائد روہنگیا افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان افراد نے اپنے عارضی رہائشی مقام سے بے دخلی کے خدشات کے باعث مدد کی درخواست کی تھی۔

انسانی حقوق اور سول سوسائٹی سے وابستہ 160 سے زائد تنظیموں نے گزشتہ ہفتے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ملائیشیا سے مطالبہ کیا تھا کہ میانمار شہریوں کی واپسی کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور میانمار میں موجود صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سول تنظیموں سے مشاورت کی جائے۔

ملائیشیا 1951 کے پناہ گزین کنونشن اور اس کے 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں ہے، جس کے باعث ملک میں پناہ گزینوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کا نظام دیگر کئی ممالک سے مختلف ہے۔ملائیشیا کی حکومت کے مطابق واپسی کا موجودہ پروگرام منظم، ذمہ دار اور انسانی بنیادوں پر چلایا جارہا ہے، جبکہ قومی سلامتی اور ملکی خودمختاری کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔۔

ادھر انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ میانمار میں جاری جنگ اور بعض اقلیتی گروہوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر واپسی کے عمل میں ہر فرد کی صورتحال کا الگ سے جائزہ ضروری ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی واپسی میں افراد کی سلامتی اور تحفظ کے اصولوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

ملائیشیا کے مطابق آئندہ مراحل میں بھی میانمار شہریوں کی واپسی دستاویزات کی تصدیق، شناختی عمل، انتظامات اور دونوں حکومتوں کے درمیان رابطے کی بنیاد پر کی جائے گی۔ پہلے مرحلے کی کارروائی کے بعد مجموعی طور پر 5,000 افراد کی واپسی کے منصوبے پر عمل جاری رکھنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button