قومی خبریں

جموں میں سرحد کے قریب بہار کا شخص حراست میں، موبائل سے ملے 12 سے زائد پاکستانی نمبر

سرحد کے قریب مشتبہ موجودگی کے بعد تارا چند سے پوچھ گچھ، موبائل کی ڈیجیٹل جانچ جاری۔

جموں، 30 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جموں و کشمیر کے سانبا ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز نے بہار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مشتبہ حالات میں حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے شخص کی شناخت ارریہ ضلع کے رہائشی تارا چند کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے موبائل فون کی جانچ کے دوران ایک درجن سے زائد پاکستانی موبائل نمبرز ملنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تارا چند جموں ضلع کے ارنیا علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا۔ وہ سانبا ضلع کے رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب موجود تھا، جہاں سکیورٹی اہلکاروں کی نظر اس پر پڑی۔ مشتبہ حالات کے پیش نظر اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی گئی۔

سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس کے موبائل فون کی جانچ کی گئی تو اس میں ایک درجن سے زائد پاکستانی نمبرز محفوظ ملے۔ اس کے علاوہ فون میں VPN کنکشن کے استعمال کی معلومات بھی سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ حکام اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ VPN کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا۔

تفتیش کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ تارا چند مبینہ طور پر کچھ پاکستانی شہریوں کے رابطے میں تھا۔ موبائل فون میں موجود نمبرز اور دیگر ڈیجیٹل معلومات کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ ان رابطوں کی نوعیت اور مقصد کا پتا چلایا جا سکے۔

سرحدی علاقوں میں کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو سکیورٹی ادارے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تارا چند سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی اور اس کے موبائل فون سمیت دیگر معلومات کی جانچ کی گئی۔

ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد تارا چند کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اب پولیس موبائل فون میں ملنے والے پاکستانی نمبرز، مبینہ رابطوں اور VPN کے استعمال سمیت دیگر پہلوؤں کی جانچ کرے گی۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ تارا چند کا پاکستانی شہریوں سے رابطہ کس مقصد سے تھا۔ اس کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی حتمی تصدیق بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کی مزید تفتیش اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی معاملے کی مکمل تفصیلات واضح ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button