قومی خبریں

جموں و کشمیر میں 600 بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت، 150 ملک بدری کے لیے منتقل

خصوصی طیارے سے مغربی بنگال پہنچایا گیا، 7 اکتوبر کو مزید 150 افراد بھیجے جائیں گے

سری نگر، 6 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 600 بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کے بعد ان کی ملک بدری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پیر کو 150 بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک گروپ کو خصوصی بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے سری نگر سے مغربی بنگال کے باغڈوگرا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مزید کارروائی کے لیے بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے پوری کشمیر وادی میں ایک سروے کیا، جس کے دوران تقریباً 600 بنگلہ دیشی شہریوں کی نشاندہی ہوئی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر علاقے میں مقیم تھے۔ شناخت کیے گئے افراد کو سری نگر پولیس کی نگرانی میں ایک کیمپ میں رکھا گیا تھا، جہاں سے انہیں مرحلہ وار باغڈوگرا منتقل کیا جا رہا ہے۔

 پہلے مرحلے میں 150 افراد کو بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے باغڈوگرا پہنچایا گیا۔ حکام کے مطابق وہاں انہیں بی ایس ایف اہلکاروں کے حوالے کیا گیا، تاکہ ان کی اپنے ملک واپسی کے لیے سرحدی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ مزید 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو 7 اکتوبر کو ملک بدری کے عمل کے تحت منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح کارروائی کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ کارروائی مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے آبادی میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی ہائی لیول کمیٹی آن ڈیموگرافک چینج (HLCDC) کے قیام کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزارت داخلہ نے 26 مئی کو اس کمیٹی کی تشکیل کی تھی، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن اور دیگر عوامل کے نتیجے میں آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا اور ان سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کی سفارش کرنا ہے۔

حکام کے مطابق کمیٹی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے مختلف اضلاع، صنعتی علاقوں اور سرحدی اضلاع میں گزشتہ 15 برس کے دوران آبادی سے متعلق ہونے والی "نمایاں تبدیلیوں” کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ کمیٹی نے متعلقہ حکومتوں سے سال بہ سال اعداد و شمار، آبادی سے متعلق اہم رجحانات اور دیگر انتظامی معلومات بھی طلب کی ہیں۔

حکام کے مطابق ہائی لیول کمیٹی آن ڈیموگرافک چینج کو اپنی رپورٹ ایک سال کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی مختلف علاقوں میں غیر قانونی امیگریشن اور دیگر غیر معمولی عوامل کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے گی، ان کے اسباب کا تجزیہ کرے گی اور پالیسی، قانون سازی اور انتظامی اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کمیٹی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے مذہبی آبادی میں تبدیلیوں سے متعلق ٹائم سیریز ڈیٹا کے ساتھ قبائلی آبادی کی مذہبی ساخت سے متعلق 2011 کے بعد کے اعداد و شمار بھی طلب کیے ہیں۔

جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مختلف اضلاع میں تقریباً 600 بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کی اطلاع دی گئی ہے۔ تازہ کارروائی کے تحت ان میں سے 150 افراد کو باغڈوگرا منتقل کیا گیا ہے، جبکہ مزید افراد کو مرحلہ وار ملک بدری کے لیے بھیجے جانے کا عمل جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button