
قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں پانچ منزلہ عمارت مسمار کر دی، 70 فلسطینی بے گھر
پانچ منزلہ عمارت کی مسماری سے تقریباً 70 فلسطینی بے گھر ہوگئے۔
مقبوضہ بیت المقدس 6 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے الطور میں اسرائیلی حکام نے پانچ منزلہ رہائشی عمارت مسمار کر دی، جس میں 10 اپارٹمنٹس قائم تھے اور تقریباً 70 فلسطینی رہائش پذیر تھے۔ متاثرین میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔
القدس گورنری کے مطابق کارروائی صبح سویرے اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی فوجی دستوں نے متعدد فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ساتھ عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔ مکینوں کو عمارت سے باہر نکال دیا گیا جبکہ انہیں اپنا گھریلو سامان منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انخلا کے دوران بعض شہریوں کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا۔
حکام کے مطابق عمارت کے رہائشیوں کو مسماری سے ایک روز قبل حتمی نوٹس دیا گیا تھا۔ خاندان کئی برس سے تعمیراتی اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم انہیں لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ اس دوران مختلف فیسوں اور جرمانوں کی مد میں دسیوں ہزار ڈالر بھی ادا کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق عمارت کو منہدم کرنے کا حکم 2022 میں جاری کیا گیا تھا، لیکن اہل خانہ نے اسرائیلی عدالتوں سے رجوع کرکے اس پر عمل درآمد رکوا دیا تھا۔ بعد میں یہ معاملہ دوبارہ سامنے آیا اور منگل کی صبح عمارت کو مسمار کر دیا گیا۔
مسماری کی کارروائی کے دوران اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ حماس نے ان کی موجودگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ فلسطینی گھروں کی مسماری کو سیاسی اور انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کی کارروائیاں فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ تنظیم نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کی جائے۔
القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران، مقبوضہ بیت المقدس میں مسماری اور کھدائی کی 139 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں 35 ایسے واقعات شامل تھے جن میں فلسطینیوں کو اپنی تعمیرات خود مسمار کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ 96 کارروائیاں براہ راست مشینری کے ذریعے کی گئیں اور 8 واقعات کھدائی سے متعلق تھے۔
اسی عرصے کے دوران مسماری، بے دخلی اور املاک و زمینوں سے متعلق 150 نوٹسز اور فیصلے جاری کیے گئے۔ ان میں 140 مسماری، 3 بے دخلی اور 7 املاک و زمینوں کی ضبطی سے متعلق تھے۔ القدس گورنری کے مطابق ان کارروائیوں کے باعث مزید فلسطینی خاندانوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔



