
آر بی آئی نے شرحِ سود بڑھا دی، ہوم لون اور چھوٹے کاروباروں پر بوجھ بڑھنے کا امکان
شرح سود میں اضافہ قرض لینے والوں، خصوصاً ہوم لون صارفین اور چھوٹے کاروباروں پر اثر ڈالے گا۔
ممبئی، 7 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے اہم شرحِ سود میں 25 پوائنٹس کے اضافے کے بعد گھر کے قرض لینے والوں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے قرض مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ بینکنگ شعبے کے ماہرین کے مطابق مرکزی بینک نے ملک میں بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے، جبکہ معیشت کی مضبوط رفتار کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایچ ڈی ایف سی بینک کی سینئر معاشی ماہر ساکشی گپتا نے کہا کہ آر بی آئی نے دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود بڑھانے کے بعد اب اپنے ملک میں بھی شرحِ سود بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان کے مطابق تازہ فیصلہ ملک میں مہنگائی کے بڑھتے خطرے کے باعث کیا گیا ہے، جبکہ اقتصادی سرگرمیاں اب بھی مضبوط ہیں۔
ساکشی گپتا کے مطابق آر بی آئی کے تازہ فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شرحِ سود میں کیا گیا اضافہ صرف ایک بار کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ آنے والے دنوں میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر بی آئی نے مالی سال 2027 کے لیے ملک کی اقتصادی ترقی کا اندازہ 40 پوائنٹس بڑھا کر 7.1 فیصد کردیا ہے، جبکہ مہنگائی کا اندازہ بھی بڑھا کر 5.2 فیصد کردیا گیا ہے۔
بینک آف بڑودہ کے چیف معاشی ماہر مدن سبنویس نے بھی شرحِ سود بڑھانے کی بنیادی وجہ مہنگائی کو قرار دیا۔ ان کا اندازہ ہے کہ رواں سال شرحِ سود میں مزید 50 پوائنٹس تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق دسمبر میں ایک مرتبہ اور اس کے بعد فروری میں بھی شرحِ سود بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
مدن سبنویس نے کہا کہ آر بی آئی نے بینکوں میں پیسوں کی دستیابی کے حوالے سے کوئی بڑا نیا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق مرکزی بینک موجودہ طریقے کے تحت بینکوں کے پاس موجود اضافی رقم کو قابو میں رکھنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے۔
انڈین اوورسیز بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر اجے کمار سریواستو نے کہا کہ شرحِ سود بڑھنے کا اثر قرض لینے والوں پر پڑنا فطری ہے۔ خاص طور پر گھر خریدنے کے لیے قرض لینے والے افراد اور چھوٹے کاروبار اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو شرحِ سود میں اضافے کا اثر قرض لینے والوں تک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کاروباروں کو بھی قرض فراہم کرتے رہنا ہوگا جو ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اجے کمار سریواستو نے شرحِ سود میں 25 پوائنٹس کے اضافے کو ایک محتاط اور بروقت قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، کمزور بارش اور ایل نینو جیسے موسمی حالات کی وجہ سے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر مرکزی بینک نے شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شرحِ سود بڑھنے سے بینکوں کے لیے قرض دینا مہنگا ہوسکتا ہے اور اس کا اثر صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نئے ہوم لون لینے والوں کے لیے قرض کی لاگت بڑھنے کے ساتھ پہلے سے فلوٹنگ شرح پر قرض لینے والے افراد کی ماہانہ قسط بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض مہنگا ہونے سے نئے منصوبوں، کاروباری توسیع اور سرمایہ کاری پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔



