
ممبئی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار، تھیٹر شخصیت اور فلم ساز نانا پاٹیکر 75 سال کی عمر میں گوا میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد چل بسے۔ نانا پاٹیکر کو جمعرات کی صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر گوا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد انہیں ڈونا پاؤلا کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
نانا پاٹیکر کے دیہانت کی خبر سے بھارتی فلمی صنعت اور ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر پونے میں تھے اور والد کے دیہانت کی اطلاع ملنے کے بعد گوا روانہ ہوگئے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹرا میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے تھیٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا اور 1978 میں ڈرامہ فلم ’گمن‘ کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ اپنی منفرد اداکاری، طاقتور مکالمہ ادائیگی اور پیچیدہ کرداروں کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کی صلاحیت کے باعث انہوں نے بھارتی سنیما میں ایک منفرد مقام بنایا۔
نانا پاٹیکر نے مراٹھی اور ہندی دونوں زبانوں کی فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ان کی نمایاں مراٹھی فلموں میں ’نٹسمراٹ‘، ’آپلا مانوس‘، ’دیوُل‘، ’پاک پاک پکاک‘، ’شالا‘، ’یشونت‘، ’ایکدا کائے زالا‘، ’دھرم ویر‘، ’وجندار‘ اور ’سرسیناپتی ہمبیر راؤ‘ شامل ہیں۔
ہندی سنیما میں بھی ان کا سفر انتہائی کامیاب رہا۔ ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’اگنی ساکشی‘، ’اب تک چھپن‘، ’اپہارن‘، ’ویلکم‘، ’دی اٹیکس آف 26/11‘ اور ’راج نیتی‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو ناظرین اور ناقدین نے بے حد سراہا۔
2000 کی دہائی میں نانا پاٹیکر نے ’شکتی: دی پاور‘، ’اب تک چھپن‘، ’اپہارن‘ اور ’ٹیکسی نمبر 9211‘ سمیت متعدد فلموں میں اپنی اداکاری سے شائقین کو متاثر کیا۔ 2007 کی کامیڈی فلم ’ویلکم‘ میں گینگسٹر ادے شیٹی کا کردار ان کے مقبول ترین کرداروں میں شمار ہوتا ہے، جسے انہوں نے 2015 میں اس کے سیکوئل ’ویلکم بیک‘ میں بھی نبھایا۔
مراٹھی فلم ’نٹسمراٹ‘ میں ان کی اداکاری کو خصوصی پذیرائی ملی۔ اپنی شاندار کارکردگی کے باعث انہیں فلم فیئر ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ نانا پاٹیکر تین نیشنل فلم ایوارڈز، چار فلم فیئر ایوارڈز اور دو مہاراشٹرا اسٹیٹ فلم ایوارڈز حاصل کرچکے تھے۔ بھارتی سنیما اور فنون میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 2013 میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔
اداکاری کے ساتھ نانا پاٹیکر نے ہدایت کاری اور گلوکاری کے میدان میں بھی کام کیا۔ انہوں نے فلم ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ کی ہدایت کاری کی، جبکہ ’یشونت‘، ’واجود‘ اور ’آنچ‘ سمیت مختلف فلموں میں اپنی آواز میں گیت بھی پیش کیے۔
نانا پاٹیکر اپنے مضبوط خیالات اور سماجی مسائل پر کھل کر اظہار کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ خود کو قوم پرست تصور کرتے تھے اور کارگل جنگ کے دوران مسلح افواج کے ساتھ بھی کام کرچکے تھے۔ وہ کسانوں اور زرعی بحران سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
فلمی دنیا سے طویل وابستگی کے باوجود نانا پاٹیکر آخری عمر تک فعال رہے۔ وہ حال ہی میں ’ہاؤس فل 5‘ میں بھی نظر آئے تھے۔ دیہانت سے صرف چار روز قبل وہ گوا کے ڈونا پاؤلا میں سمرت کلب انٹرنیشنل کی ایک تقریب میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے خطاب بھی کیا تھا۔
اپنی تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی زندگی میں نانا پاٹیکر نے تھیٹر، مراٹھی سنیما اور بالی وڈ میں اپنی ایسی شناخت قائم کی جو ان کے منفرد اندازِ اداکاری کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کے دیہانت سے بھارتی سنیما نے ایک ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس نے اپنی آواز، مکالموں اور کرداروں کے ذریعے کئی نسلوں کے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا۔



