سرورققومی خبریں

ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف دینے پر لگے گی روک، سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو کمیٹی بنانے کا حکم

سپریم کورٹ کا غیر اخلاقی فارما مارکیٹنگ پر روک کے لیے مرکز کو کمیٹی بنانے کا حکم

نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): سپریم کورٹ نے دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے اپنی مصنوعات کی تشہیر اور فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو تحائف، مہمان نوازی، سفری سہولتیں اور دیگر فوائد فراہم کرنے کے معاملے پر مرکزی حکومت کو تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔ کمیٹی یہ جائزہ لے گی کہ فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو قانونی طور پر منظم کرنے کے لیے باقاعدہ قانون کی ضرورت ہے یا نہیں اور اگر ضرورت ہو تو اس کے لیے کس نوعیت کا ضابطہ بنایا جانا چاہیے۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے یہ ہدایت دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ پریکٹس کو قانونی دائرے میں لانے اور فارما کمپنیوں و ڈاکٹروں کے درمیان غیر اخلاقی روابط کو روکنے سے متعلق عرضی کی سماعت کے دوران دی۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ کو بتایا کہ مرکزی حکومت ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے گی۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے قانونی فریم ورک ضروری ہے اور اگر ایسا ہے تو اس قانون یا ضابطے کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔

مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ ضابطے کے تحت دوا ساز کمپنیوں سے تحائف یا دیگر فوائد قبول کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، فارما کمپنیوں کو خود قانونی طور پر منظم کرنے اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کے لیے الگ قانونی نظام کی ضرورت کے معاملے پر مجوزہ کمیٹی غور کرے گی۔

بعض دوا ساز کمپنیاں اپنی ادویات زیادہ تجویز کروانے کے لیے ڈاکٹروں کو مفت تحائف، مہنگی مہمان نوازی، بیرون ملک سفر اور دیگر سہولتیں دیتی ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایسے فائدے لینے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا انتظام تو موجود ہے، لیکن یہ فائدے دینے والی دوا ساز کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے لیے واضح قانونی نظام نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مجوزہ کمیٹی اس معاملے میں مختلف متعلقہ فریقوں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد کمیٹی فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ سرگرمیوں کے لیے قانونی ضابطے کی ضرورت اور اس کی ممکنہ شکل سے متعلق اپنی سفارشات مرکزی حکومت کو دے گی۔

مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے حلف نامہ بھی داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 29 جنوری کو مقرر کی ہے۔

فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ پریکٹس کا معاملہ ایسے وقت میں عدالت کے سامنے ہے جب سپریم کورٹ ادویات کی قیمتوں اور مریضوں کے لیے علاج کے اخراجات سے متعلق وسیع تر مسائل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اسی بنچ کے سامنے دائر الگ الگ مفاد عامہ کی درخواستوں میں ادویات، جنیرک میڈیسن، طبی آلات اور ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات تجویز کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ضوابط پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ایک سابقہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ادویات کی سپلائی قیمت اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت یعنی ایم آر پی کے درمیان بڑے فرق پر سوال اٹھایا تھا۔ عدالت کے سامنے ایک کینسر کی دوا کی مثال بھی پیش کی گئی تھی جس کی ایم آر پی تقریباً 27 ہزار روپے تھی، جبکہ اسے خوردہ فروشوں کو تقریباً 2,700 سے 3,000 روپے میں فراہم کیے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔

سپریم کورٹ نے تقریباً دس گنا فرق پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ دوا ساز کمپنیوں کو ایسی ادویات کی ایم آر پی مقرر کرنے کی اجازت کیوں دی جانی چاہیے جو خوردہ فروشوں کو اس سے کہیں کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہیں۔ عدالت نے اس فرق کو ’’کھلے عام ڈکیتی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔

بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا ضروری اشیا قانون کے دائرے میں آنے والی تمام دوا ساز مصنوعات کے لیے ایک یکساں منافع کا مارجن مقرر کیا جا سکتا ہے، چاہے متعلقہ دوا ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر کے تحت ضروری ادویات میں شامل ہو یا غیر ضروری ادویات کے زمرے میں آتی ہو۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا تھا کہ دوا کی ایم آر پی اور خوردہ فروش کو فراہم کی جانے والی قیمت کے درمیان غیر معمولی فرق صارفین کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت کے مطابق اگر کسی دوا کی ایم آر پی 27 ہزار روپے درج ہو، لیکن وہ تقریباً 3 ہزار روپے میں دستیاب ہو تو مریض اس دوا کے اصلی یا نقلی ہونے کے بارے میں بھی شبہ کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button