
نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز):اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے اپنی شناخت، شخصیت اور تشہیری حقوق کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کی شناخت سے منسلک فحش اور قابل اعتراض مواد کے استعمال اور تشہیر پر روک لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسٹس وکاس مہاجن کی سنگل جج بنچ نے کنگنا رناوت کی جانب سے دائر مقدمے میں متعلقہ فریقین کو سمن جاری کرتے ہوئے عبوری حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران اداکارہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کنگنا رناوت سوشل میڈیا پر ان کے نام اور شناخت کے ساتھ شائع کیے جانے والے فحش اور قابل اعتراض مواد سے متاثر ہوئی ہیں۔
عدالت نے کنگنا رناوت کے وکیل سے ان فریقین کے نام فراہم کرنے کو کہا جن کے خلاف آن لائن مواد ہٹانے کا حکم طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ مطلوبہ تفصیلات فراہم کیے جانے کے بعد عبوری درخواست پر مناسب حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے اداکارہ کے وکیل کو یہ ہدایت بھی دی کہ بعض فریقین کو کارروائی سے الگ کیے جانے کے بعد فریقین سے متعلق نظرثانی شدہ میمو عدالت میں جمع کرایا جائے۔اس معاملے کی اگلی سماعت 3 فروری 2027 کو مقرر کی گئی ہے۔
کنگنا رناوت کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ میں معروف شخصیات کی شناخت، چہرے، آواز اور نام کے غیر مجاز استعمال سے متعلق مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان معاملات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نقلی مواد، ڈیپ فیک، جعلی تشہیری مہمات اور عوامی شخصیات کی شناخت کے تجارتی استعمال جیسے مسائل عدالت کے سامنے آئے ہیں۔
حالیہ عرصے میں سابق کرکٹر گوتم گمبھیر، سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر، روحانی رہنما سری سری روی شنکر، اداکار ارجن کپور، اللو ارجن، ناگارجن، ورون دھون، کاجول، ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن، گلوکار جوبن نوتیال، فلم ساز کرن جوہر، پوڈکاسٹر راج شمّانی، کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اور اداکار ناگا چیتنیا بھی اپنی شناخت، مشابہت یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نقلی مواد کے غیر مجاز استعمال کے خلاف عدالت سے رجوع کر چکے ہیں یا قانونی تحفظ حاصل کر چکے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے حال ہی میں اداکارہ تبو کی جانب سے دائر مقدمے کی سماعت کے دوران بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کی شناخت سے متعلق بعض قابل اعتراض مواد ہٹانے کا عبوری حکم دیا تھا۔ تبو نے اپنی شخصیت اور تشہیری حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔



