بین الاقوامی خبریں

امریکہ میں غیر ملکی طلبہ کی نوکری پر 70 ہزار ڈالر فیس کی تجویز

او پی ٹی کی بھاری فیس سے غیر ملکی طلبہ اور امریکی تعلیمی ادارے متاثر ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کا راستہ مہنگا ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے دستیاب اختیاری عملی تربیت (OPT) پروگرام میں نئی درخواست کے لیے 70 ہزار امریکی ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ تاہم یہ رقم براہ راست طلبہ سے وصول نہیں کی جائے گی بلکہ متعلقہ کالج یا یونیورسٹی کو ادا کرنا ہوگی۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے مطابق کسی غیر ملکی طالب علم کو OPT پروگرام میں پہلی مرتبہ شامل کرنے کے لیے متعلقہ تعلیمی ادارے کو 70 ہزار ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ پروگرام میں توسیع یا تجدید کی صورت میں 30 ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

OPT پروگرام امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو اپنی تعلیم سے متعلق شعبے میں عملی تجربہ حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عام طور پر طلبہ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ایک سال تک OPT کے تحت کام کرسکتے ہیں، جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی STEM شعبوں سے وابستہ طلبہ کو مزید دو سال تک اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل سکتی ہے۔

مجوزہ فیس کا سب سے زیادہ اثر ان امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں پر پڑنے کا امکان ہے جہاں بڑی تعداد میں بین الاقوامی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر شعبوں کی ان کمپنیوں پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے جو غیر ملکی طلبہ کو ملازمتیں فراہم کرتی ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مجوزہ فیس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد OPT پروگرام میں ممکنہ دھوکہ دہی اور غلط استعمال کی روک تھام ہے۔ امریکی حکام نے اس پروگرام پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ بعض ادارے اسے کم اجرت پر غیر ملکی کارکن حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

تاہم 70 ہزار ڈالر فیس سے متعلق یہ تجویز ابھی حتمی نہیں ہوئی ہے۔ مجوزہ تبدیلی پر عوام، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اپنی آرا اور اعتراضات پیش کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا جائے گا۔ اس مدت کے دوران موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی امریکہ میں موجود غیر ملکی طلبہ کے حوالے سے کئی سخت اقدامات کرچکی ہے۔ گزشتہ سال متعدد بین الاقوامی طلبہ کی قانونی حیثیت منسوخ کیے جانے کے بعد بعض طلبہ کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button