
امریکہ میں انفوسس، ٹی سی ایس سمیت کئی بڑی کمپنیوں کا گرین کارڈ پروگرام معطل، بھارتی ملازمین متاثر
واشنگٹن،9 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) امریکہ میں کام کرنے والے بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ محنت نے انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، وِپرو، ایچ سی ایل، مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی سمیت متعدد بڑی کمپنیوں کے PERM پروگرام سے متعلق درخواستوں پر کارروائی روکنے کا قدم اٹھایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارروائی غیرملکی ملازمین کی بھرتی اور مستقل رہائش کے لیے لیبر سرٹیفکیشن کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے منسلک ہے۔ اس صورتحال سے ان ملازمین کی تشویش بڑھ سکتی ہے جو امریکی کمپنیوں کی اسپانسرشپ کے ذریعے گرین کارڈ حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔
امریکی محکمہ محنت کی اس کارروائی کا اثر ان کمپنیوں پر پڑ سکتا ہے جو امریکہ میں بڑی تعداد میں غیرملکی ماہرین، خصوصاً بھارتی آئی ٹی ملازمین، کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، PERM درخواستوں پر کارروائی رکنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام متاثرہ ملازمین کی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی یا ان کے H-1B ویزے خود بخود منسوخ ہوجائیں گے۔ اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ متعلقہ ملازم کی امیگریشن درخواست کس مرحلے میں ہے اور سرکاری کارروائی کا دائرہ کیا ہے۔
PERM کا پورا نام پرماننٹ لیبر سرٹیفکیشن (Permanent Labor Certification) ہے۔ امریکہ میں ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے متعدد معاملات میں یہ ابتدائی اور اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے تحت کمپنی کو امریکی محکمہ محنت کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ ملازمت کے لیے مقررہ شرائط کے مطابق اہل اور دستیاب امریکی کارکن موجود نہیں ہیں۔ کمپنی کو یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ غیرملکی ملازم کی بھرتی سے امریکی کارکنوں کی اجرت یا کام کے حالات پر منفی اثر نہ پڑے۔
PERM کی منظوری کے بعد آجر عموماً متعلقہ ملازم کے لیے I-140 امیگرنٹ پٹیشن دائر کرتا ہے۔ اس کے بعد گرین کارڈ کے حصول کے دیگر مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ اگر PERM درخواست کی جانچ یا منظوری رک جاتی ہے تو مستقل رہائش کا پورا عمل تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس سے خاص طور پر ان ملازمین کی پریشانی بڑھ سکتی ہے جو طویل عرصے سے امریکہ میں کام کر رہے ہیں اور گرین کارڈ کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ میں امریکی ملازمین کی برطرفیوں اور غیرملکی کارکنوں کے لیے ویزا درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمپنی کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق، مائیکروسافٹ نے 2025 میں تقریباً 6 ہزار امریکی ملازمین کو ملازمت سے نکالا، جبکہ اسی عرصے میں کمپنی کی جانب سے 6 ہزار سے زیادہ H-1B ویزوں کی منظوری اور 3,682 PERM درخواستیں دائر کیے جانے کا حوالہ دیا گیا۔
وینس نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے تقریباً ایک ہزار PERM درخواستیں ایسے عہدوں سے متعلق تھیں جہاں سے امریکی ملازمین کو ہٹایا گیا تھا۔ ان الزامات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر کسی کمپنی نے امریکی کارکنوں کو ملازمت سے نکالا ہے تو پھر اسی نوعیت کے عہدوں کے لیے غیرملکی ملازمین کی بھرتی کے سلسلے میں امریکی کارکنوں کی عدم دستیابی کا دعویٰ کس حد تک درست ہے۔
تاہم، ان اعداد و شمار اور الزامات کو حکام کے بیان کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ H-1B درخواستوں میں موجودہ ملازمین کے ویزے کی مدت بڑھانے یا اسٹیٹس میں تبدیلی کے معاملات بھی شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے صرف مجموعی تعداد سے نئی بھرتیوں کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔
کیا H-1B ویزا رکھنے والوں کی ملازمت ختم ہوجائے گی؟
PERM پروگرام کی معطلی کا مطلب یہ نہیں کہ متاثرہ کمپنیوں کے تمام H-1B ویزے منسوخ کردیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی بنیادی طور پر ملازمت کی بنیاد پر مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے لیبر سرٹیفکیشن کے عمل سے متعلق ہے۔ اگر کسی ملازم کا H-1B ویزا اور قانونی امیگریشن اسٹیٹس برقرار ہے اور وہ ویزا کی شرائط پوری کر رہا ہے تو وہ متعلقہ قواعد کے مطابق امریکہ میں کام جاری رکھ سکتا ہے۔
البتہ، ان ملازمین کے لیے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے جن کے H-1B ویزا کی عام چھ سالہ مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور جن کی گرین کارڈ درخواست ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ بعض شرائط کے تحت PERM یا I-140 سے متعلق مخصوص مراحل کی بنیاد پر H-1B کی مدت میں توسیع ممکن ہوتی ہے، لیکن ہر ملازم کو اس کا فائدہ نہیں ملتا۔ اس لیے متاثرہ ملازمین کو اپنی درخواست کی موجودہ حالت کے مطابق قانونی مشورہ لینا چاہیے۔
بھارتی آئی ٹی کمپنیوں پر کیا اثر پڑسکتا ہے؟
اس کارروائی کے باعث متاثرہ کمپنیوں کو اپنی بھرتی، غیرملکی ملازمین کی اسپانسرشپ اور امریکہ میں افرادی قوت کی منصوبہ بندی کا دوبارہ جائزہ لینا پڑسکتا ہے۔ گرین کارڈ کی درخواستوں میں تاخیر سے ملازمین کو طویل عرصے تک عارضی ویزا پر رہنا پڑسکتا ہے، جبکہ کمپنیوں کے لیے قانونی اور انتظامی اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ممکن ہے کہ بعض کمپنیاں امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کی بھرتی پر زیادہ توجہ دیں یا ضرورت کے مطابق ملازمین کو دوسرے ممالک میں تعینات کرنے کے متبادل پر غور کریں۔ تاہم، ان امکانات کو تمام کمپنیوں کے لیے حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز نے کہا ہے کہ اس کے PERM درخواستوں سے متعلق معاملات کی تعداد بہت کم رہی ہے اور کمپنی امریکہ میں 15 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے کے اپنے اعلان پر قائم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی کے اثرات ہر کمپنی پر یکساں نہیں ہوں گے۔
کیا گرین کارڈ حاصل کرنے کے متبادل راستے بھی موجود ہیں؟
کچھ اہل ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کے متبادل راستے بھی دستیاب ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بین الاقوامی کمپنیوں میں کام کرنے والے مخصوص انتظامی عہدوں کے اہل افراد مقررہ شرائط پوری کرنے پر EB-1C کیٹیگری کے تحت مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کیٹیگری میں عام طور پر PERM لیبر سرٹیفکیشن کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ملازمت کی نوعیت، بیرون ملک اور امریکہ میں کام کے تجربے اور کمپنی کے تعلقات سمیت متعدد شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اسی طرح، EB-2 اور EB-3 کیٹیگریز کے ذریعے گرین کارڈ حاصل کرنے والے بھارتی شہریوں کو پہلے ہی طویل انتظار کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کیٹیگریز میں PERM کے مرحلے پر تاخیر سے درخواست کے مجموعی دورانیے میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم، متبادل امیگریشن راستے ہر ملازم کے لیے دستیاب نہیں ہوتے اور ان کا انتخاب ذاتی حالات کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔
متاثرہ ملازمین کو اپنی PERM درخواست کی موجودہ حالت، آجر کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات اور H-1B ویزا کی مدت کا جائزہ لینا چاہیے۔ کمپنی کے امیگریشن شعبے سے رابطہ کرکے یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ آیا ان کی درخواست واقعی اس کارروائی سے متاثر ہوئی ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ، کسی بھی متبادل ویزا یا گرین کارڈ کیٹیگری کا انتخاب کرنے سے پہلے اہل امیگریشن وکیل سے مشورہ کرنا مفید ہوگا۔ ہر ملازم کی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے صرف عمومی خبروں کی بنیاد پر ملازمت چھوڑنے یا امریکہ سے واپسی کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
مجموعی طور پر، امریکی حکومت کی یہ کارروائی بڑی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم قانونی اور انتظامی چیلنج بن سکتی ہے۔ بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ PERM درخواستوں کی معطلی کو H-1B ویزا کی خودکار منسوخی نہ سمجھا جائے۔ ان کے مستقبل کا انحصار متعلقہ درخواستوں کی حالت، ویزا کی مدت اور امریکی حکام کے حتمی فیصلوں پر ہوگا۔



