
پروٹین پاؤڈر اور ہیلتھ سپلیمنٹس کے دعووں پر نیسلے، ڈاکٹر ریڈی، امیزون اور فلپ کارٹ سمیت کئی کمپنیوں کو FSSAI کے نوٹس
صحت سے متعلق دعووں کی سچائی اور غذائی تحفظ کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا
نئی دہلی، 9 اکتوبر 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)پروٹین پاؤڈر اور ہیلتھ سپلیمنٹس کی فروخت میں کیے جانے والے صحت سے متعلق دعووں پر بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (FSSAI) نے سخت کارروائی کی ہے۔ نیسلے ہیلتھ سائنس، ڈاکٹر ریڈی لیبارٹریز، امیزون اور فلپ کارٹ سمیت کئی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا گیا ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ بعض مصنوعات کی تشہیر میں پروٹین کی مقدار، شوگر فری اور صحت کے لیے مفید ہونے سے متعلق ایسے دعوے کیے گئے جن کی مقررہ معیار کے مطابق تصدیق نہیں ہو سکی۔
فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے مطابق کارروائی کا تعلق ہیلتھ سپلیمنٹس اور دیگر غذائی مصنوعات کی تشہیر اور فروخت کے دوران کیے جانے والے دعووں سے ہے۔ بعض مصنوعات کو زیادہ پروٹین والی، شوگر سے پاک یا صحت بخش بتا کر فروخت کیا جا رہا تھا، لیکن جانچ کے دوران ان دعووں اور متعلقہ ضابطوں کی پابندی پر سوالات اٹھے۔ اسی بنیاد پر متعلقہ کمپنیوں سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ معاملے میں ڈاکٹر ریڈی لیبارٹریز اور نیسلے ہیلتھ سائنس کی بعض مصنوعات کے پروٹین سے متعلق دعووں اور اشتہارات کا معاملہ بھی شامل بتایا گیا ہے۔
اس کارروائی میں شرییش ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف بھی سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کے خلاف ایف ایس ایس اے آئی کو 130 سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں 70 سے زیادہ شکایات ایکسپائر یا خراب غذائی مصنوعات کی فروخت سے متعلق تھیں۔ بعض صارفین نے ایسی مصنوعات استعمال کرنے کے بعد الٹی آنے کی شکایت بھی کی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو پہلے بھی خامیوں کو دور کرنے کے لیے نوٹس اور ہدایات دی گئی تھیں، تاہم صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کے بارے میں اطمینان بخش صورت حال سامنے نہیں آئی۔ اس کے بعد متعلقہ ادارے نے کمپنی کا فوڈ لائسنس معطل کر دیا۔
فلپ کارٹ کے گوداموں میں بھی خامیاں
دہلی اور نوئیڈا میں فلپ کارٹ کے آرڈرز کی ذخیرہ اندوزی، پیکنگ اور ترسیل سے متعلق مقامات کے معائنے کے دوران بھی غذائی مصنوعات کے حوالے سے بے ضابطگیاں سامنے آنے کی اطلاع ہے۔ حکام کو وہاں ایکسپائر اور جلد میعاد ختم ہونے والی اشیا ملی ہیں۔ اس کے علاوہ صفائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات میں بھی خامیاں پائی گئیں۔ اس معاملے میں متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کیے جانے کی اطلاع ہے۔
نیس انٹرنیشنل کے خلاف بھی کارروائی
ایف ایس ایس اے آئی نے نیس انٹرنیشنل کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ کمپنی کی کھلی کشمش کے نمونوں میں کیڑے مار ادویات کی باقیات مقررہ حد سے زیادہ پائے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ کمپنی کی اپیل کے بعد نمونوں کی دوبارہ جانچ ایک ریفرل لیبارٹری میں کرائی گئی، جہاں بھی مبینہ طور پر مقررہ حد سے زیادہ باقیات پائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق کشمش کے نمونوں میں بینومائل اور کاربینڈازم سمیت بعض کیڑے مار ادویات کی باقیات مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کر گئی تھیں۔ اس کے بعد کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔
تہواروں کے موسم میں غذائی مصنوعات کی خریداری بڑھنے کے پیش نظر اس طرح کی جانچ اور نگرانی صارفین کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ متعلقہ کمپنیوں سے مقررہ مدت میں جواب طلب کیا گیا ہے۔ اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی اور خلاف ورزی ثابت ہو گئی تو متعلقہ قوانین کے تحت مالی جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ پروٹین پاؤڈر، ہیلتھ سپلیمنٹس اور دیگر غذائی مصنوعات خریدتے وقت صرف پیکنگ پر درج بڑے بڑے دعووں پر انحصار نہ کریں۔ مصنوعات کے اجزا، غذائی معلومات، میعادِ استعمال، لائسنس اور لیبل پر درج ہدایات بھی ضرور دیکھیں۔



