
بجنور میں تیز آواز میں اذان دینے پر مؤذن گرفتار، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا
لاؤڈ اسپیکر کی آواز مقررہ حدود میں رکھنے کی ہدایت، خلاف ورزی پر پولیس کی کارروائی
بجنور، 12 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نجیب آباد میں لاؤڈ اسپیکر پر مقررہ حد سے زیادہ آواز میں اذان دینے کے الزام میں پولیس نے ایک مؤذن کو گرفتار کرلیا۔ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد مؤذن محمد فیضان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ اس معاملے میں ڈیوٹی پر لاپروائی برتنے کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، یہ معاملہ نجیب آباد کے مقبرہ علاقے میں واقع مسجد نجيب الدولہ کا ہے، جو ایک سرکاری انٹر کالج کے قریب ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن کمار بشنوئی اور ضلع مجسٹریٹ تھانہ دیوس کے سلسلے میں عوامی شکایات کی سماعت کے لیے جا رہے تھے کہ اسی دوران مسجد سے تیز آواز میں اذان دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس حکام نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی پولیس کو کارروائی کی ہدایت دی۔
پولیس نے مسجد پہنچ کر لاؤڈ اسپیکر ضبط کرلیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس سے مقررہ حد سے زیادہ آواز پیدا ہو رہی تھی۔ سب انسپکٹر سوربھ سنگھ کی شکایت پر مؤذن محمد فیضان کو گرفتار کیا گیا اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انھیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا گیا۔
پولیس کی شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر مسجد کے اندر اس انداز میں نصب کیا گیا تھا کہ باہر سے دکھائی نہ دے۔ حکام کے مطابق، ضرورت سے زیادہ شور سے بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو پریشانی ہوسکتی ہے۔ تاہم، پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کارروائی سے پہلے آواز کی شدت ڈیسی بل میٹر سے ناپی گئی تھی یا نہیں، اور نہ ہی اس وقت شور کی درست سطح کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔
اس کارروائی پر نجیب آباد کے قاضی عفان الحق نے اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مؤذن کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کے بجائے تنبیہ کرکے چھوڑا جاسکتا تھا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن کمار بشنوئی نے کہا ہے کہ مذہبی مقامات پر مقررہ حد سے زیادہ آواز میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں مذہبی رہنماؤں کو پہلے بھی متنبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے علاقے میں صوتی آلودگی سے متعلق ضابطوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے گشت کرنے والے بیٹ کانسٹیبلوں سے حلف نامے لینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ قواعد کی خلاف ورزی پر متعلقہ تھانے کے انچارج اور بیٹ کانسٹیبل کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی بجنور ضلع انتظامیہ نے مذہبی مقامات پر مقررہ حد سے زیادہ آواز میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کیے جانے کی شکایات پر کارروائی کی تھی۔ اس دوران مساجد، مندروں اور گردواروں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے مئی 2020 میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ اذان مذہبی آزادی کے حق کا حصہ ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا اس حق کا لازمی جزو نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ تحریری اجازت کے بغیر مذہبی مقامات یا عوامی مقامات پر آواز نشر کرنے والے آلات کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔



