اسلام میں عورت کی مختلف حیثیتوں پر ایک نظر-مولانا ندیم احمد انصاری
اسلام میں عورت کے حقوق – ایک جامع جائزہ
بحیثیت بیٹی
جاہلیت کے دور میں عورت کا مقام
زمانۂ جاہلیت میں مشرکین عورت کو کسی رتبے اور مقام کا اہل نہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ لڑکی کے پیدا ہونے پر غضب ناک ہوتے۔ قرآن کریم نے ان کے اس قبیح فعل کو اس طرح بیان کیا ہے:
قرآن کی روشنی میں بیٹیوں کا مقام
"اور جب ان میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غصّے میں گھٹتا جاتا ہے۔ وہ (بزعم خویش) اس ’بری خبر‘ کی عار کی وجہ سے قوم سے چھپتا پھرتا ہے۔ وہ (سوچتا ہے کہ) آیا اس کو ذلت کی حالت میں لیے پھرے یا زندہ زمین میں دفن کر دے۔ خبردار! کتنا برا خیال ہے جو وہ کرتے ہیں۔” (النحل)
اسلام میں بیٹی کی عزت
رسول اللہ ﷺ نے بیٹی کی پرورش پر عظیم اجر کی بشارت دی:
"جس شخص کے تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی بہتر پرورش کرے، اور انھیں اپنی حیثیت کے مطابق پہنائے تو یہ لڑکیاں اس کے لیے آگ سے حجاب ہوں گی۔” (ابن ماجہ)
بیٹی کا وراثت میں حق
اسلام نے پہلی بار وراثت میں بیٹی کا حق جاری کیا:
"اللہ تمھیں تمھاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد، تو ان کے لیے اس ترکے کا دو تہائی حصہ ہے۔” (النساء)
بحیثیت بہن
بہن کے حقوق
اسلام نے بحیثیت بہن بھی عورت کے حقوق پر توجہ دی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کے تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا رہے، وہ جنت کا حق دار ہوگا۔” (ترمذی)
بہن کا وراثت میں حق
"اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کی ماں کی طرف سے ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔” (النساء)
بحیثیت بیوی
نکاح کی اہمیت
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے واسطے تمھاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف مائل ہو کر سکون حاصل کرو۔” (الروم)
میاں بیوی کا تعلق
"وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” (البقرہ)
شوہر اور بیوی کے مساوی حقوق
"عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے، جیسے دستور کے موافق مردوں کا حق عورتوں پر ہے، البتہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجے فضیلت ہے۔” (البقرہ)
بیوی کے ساتھ حسن سلوک
"مومنو! (اپنی) بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ۔ اگر وہ تمھیں (کسی معاملے میں) ناپسند ہوں، (تو) عجب نہیں کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس میں بہت سی بھلائی رکھ دی ہو۔” (النساء)
بحیثیت ماں
ماں کا مقام
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” (ابن ماجہ)
ماں کے حقوق
"ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمھاری والدہ۔” (بخاری)
ماں کے تین گنا زیادہ حقوق
علماء نے اس حدیث سے نتیجہ اخذ کیا کہ والدہ کے حقوق درج ذیل وجوہات کی بنا پر والد سے تین گنا زیادہ ہیں:
(۱) حمل کی تکلیف
(۲) ولادت کی مشقت
(۳) دودھ پلانے کی قربانی
ماں اور باپ کے حقوق میں توازن
فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اولاد پر والدہ کا حق والد کے حق سے زیادہ ہے اور خدمت میں ماں کو فوقیت دی جائے۔ اگر ماں اور باپ کے حقوق میں تعارض ہو جائے تو تعظیم میں والد کو اور خدمت میں والدہ کو فوقیت دی جائے۔



