لو جہاد قانون کو لیکر مدھیہ پردیش میں سیاست جاری ہے
ایم پی 29/ڈسمبر (اردودنیانیوز )۔ لو جہاد قانون کو لیکر مدھیہ پردیش میں سیاست جاری ہے، گرچہ کورونا وائرس وبا کے سبب جب آج سے شروع ہونے والے اسمبلی سیشن کو ملتوی کرنے کا اعلان کیاگیا تومفہوم یہ تھا کہ یہ معاملہ سردہوگیا ہے ، لیکن حکومت نے لو جہاد قانون پر آرڈیننس لانے کی بات کہہ کر موقف صاف کردیا۔ وہیں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے بھوپال میں لو جہاد کے خلاف دھرنا دیکر عدالت سے رجوع کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ خیال رہے کہ یوپی میں لو جہاد کیخلاف قانون سازی کے بعد سے ہی مدھیہ پردیش میں بھی حکومت نے لوجہاد کو روکنے کے لئے قانون لانے کا اعلان کردیاتھا،
پہلے لو جہاد کیخلاف قانون لانے اور پانچ سال تک کی سزا کی بات کہی گئی تھی ،مگر بی جے پی اراکین اسمبلی کے مطالبہ کے بعد اس میں سزا کی مدت میں توسیع کی گئی اور جب لو جہاد قانون کے مسودے کو وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے سامنے پیش کیاگیا تولوجہاد میں ملوث افراد کو دس سال کی سزا کے ساتھ ایک لاکھ تک کاجرمانہ بھی شال کردیا گیا۔ چھبیس دسمبر کو لو جہاد کے مجوزہ مسودہ کو شیوراج کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد اٹھائیس دسمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں اسے پیش کیا جانا تھا ،مگر عین اسمبلی سیشن سے پہلے اسمبلی سکریٹریٹ کے 77ملازمین میں سے 59ملازمین کی رپورٹ کورونا پازیٹو آنے اور مختلف پارٹیوں کے دس ممبران اسمبلی کی رپورٹ کورونا پازیٹو آنے کے بعد کل جماعتی میٹنگ میں اتفاق رائے سے اسمبلی سیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔
ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کورونا قہر کے سبب کل جماعتی میٹنگ میں اسمبلی کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ اب سیدھے بجٹ سیشن سے اسمبلی کا آغاز ہوگا۔جہاں تک لو جہاد قانون کا سوال ہے تو حکومت اپنے موقف پر قائم ہے اور اب لو جہاد کو لیکر حکومت آرڈیننس لائے گی