مایاوتی نے ریاستی حکومت طریقۂ کار پراٹھائے سوال
لکھنؤ: (اردودنیا.اِن) یوپی میں ہاتھرس سانحہ کے متاثرہ خاندان کے ہائی کورٹ میں دائر حلف نامہ پر سیاست شروع ہوگئی ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے قومی صدراور سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے پیر کے روز سوشل میڈیا کے ذریعہ یوگی حکومت کو نشانہ بنایا۔ مایاوتی نے لکھا ہے کہ ہاتھرس واقعہ کے متاثرہ خاندان ، ان کے وکلا اور گواہان کو دھمکیاں دینے کا معاملہ بہت سنگین ہے۔
ریاستی حکومت کے کام پر سوال اٹھاتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش میں مجرموں کی حکمرانی ہے۔اس صورتحال میں متاثرین کو انصاف کیسے ملے گا؟مایاوتی نے لکھا ہے کہ انصاف ملنے میں شرمناک سانحہ ہاتھرس گینگ ریپ متاثرہ کے اہل خانہ کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بالکل واضح ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اب جو نئے حقائق عدالت میں عیاں ہوئے ہیں ، وہ متاثرہ افراد کیلئے انصاف کی فراہمی کے حکومتی طریقۂ کار پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
ہاتھرس واقعے میں نئے حقائق کا عدالت کے ذریعہ نوٹس لے کر گواہوں کے دھمکانے وغیرہ کی تحقیقات کے حکم دیئے جانے سے ایک بارپھر یوپی کٹہرے میں ہے، عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ متاثرین کو انصاف کیسے ملے گا؟ مایاوتی نے کہا کہ یوپی کے متعلق عمومی خیال قائم ہوگیا ہے کہ یوپی میں مجرموں کا راج ہے ،اوریہاں انصاف ملنا بہت مشکل ہے ۔خیال رہے کہ 5 مارچ کو ہاتھرس واقعے کے متاثرہ فریق نے الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں بیانِ حلفی نامہ داخل کیا تھا ، جس میں سی بی آئی کی چارج شیٹ پر جاری سماعت کے دوران ملزم فریق کے ساتھ ان کے وکیل پر دھمکیاں دینے کا الزام لگایا تھا۔
حلف نامے میں وکیل سیما کشواہا کو ملنے والی دھمکیوں کا بھی ذکر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی سماعت 5 مارچ کو ہا تھرس ڈسٹرکٹ کورٹ میں چل رہی تھی، اسی دوران ترون ہری شرما نامی وکیل کمرہ عدالت میں داخل ہوا، اس نے متاثرہ فریق کے وکیل سے جھگڑا کرنے کی کوشش کی۔ وکیل شراب سے نشے میں تھا۔
جس پر جسٹس راجن رائے اور جسٹس جس پریت سنگھ نے ڈسٹرکٹ جج اور سی آر پی ایف سے 15 دن میں رپورٹ بھیجنے کو کہا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر رپورٹ آتی ہے تو ٹرائل کو کہیں اور منتقل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا ۔



