ممبئی: (اردودنیا.اِن)این سی پی کے صدر شرد پوار نے پیر کے روزکہاہے کہ انیل دیش مکھ کو اس وقت اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جب ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ کے خلاف بدعنوانی کاوقت بتایاہے۔اب استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اس وقت دیشمکھ ناگپور میں اسپتال میں داخل تھے۔
الزامات (سنگھ)اسی وقت سے متعلق ہیں جب وہ (دیشمکھ) اسپتال میں داخل تھے۔اسپتال کا سرٹیفکیٹ بھی ہے۔مہاراشٹرا کے سیاسی راہداریوں میں ہلچل مچانے والے معاملے پر چند دنوں کے اندر یہ شردپوارکی دوسری میڈیا بریفنگ ہے۔سنگھ نے ہفتہ کے روزمہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو لکھے گئے آٹھ صفحات پرمشتمل خط میں دعویٰ کیاہے کہ دیشمکھ چاہتے ہیں کہ پولیس افسران ہر ماہ 100 کروڑ روپیے کی وصولی کریں۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ دیشمکھ نے فروری میں ممبئی پولیس کے اے پی آئی سچن وازے کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ ہر ماہ 100 کروڑ روپئے کی وصولی کریں۔دیشمکھ نے اسی دن الزامات کی تردید کی۔شردپوار نے نامہ نگاروں کو بتایاہے کہ دیش مکھ کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے 5 سے 15 فروری تک ناگپور کے ایک اسپتال میں داخل کیے گئے تھے اور اس کے بعد وہ 27 فروری تک آئسولیشن میں رہائش گاہ میں مقیم تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ تمام (ریاستی) حکومتی ریکارڈ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ (دیش مکھ) تین ہفتوں سے ممبئی میں نہیں تھے۔ وہ ناگپور میں تھے جو ان کاآبائی شہر ہے۔ تو ایسی صورتحال میں سوال (استعفیٰ) پیدا نہیں ہوتاہے۔سابق مرکزی وزیر نے کہاہے کہ بی جے پی کے مطالبے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ الزامات کی تحقیقات ہونے تک دیش مکھ کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔



