ملکاجگری اور رنگا ریڈی میں وقف اراضی کے 115 غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ،وقف بورڈ کی اہم کامیابی

وقف بورڈ صدرنشین محمد سلیم کی پریس کانفرنس
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)تلنگانہ وقف بورڈ نے اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے رنگا ریڈی اور ملکاجگری اضلاع میں وقف اراضیات سے متعلق 115 غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے قابضین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔وقف بورڈ صدرنشین محمد سلیم نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غیر مجاز رجسٹریشن کی منسوخی کی تفصیلات جاری کیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد قطب شاہی اور درگاہ حضرت ابراہیم حسینیؒ عطا پور راجندر نگر منڈل ضلع رنگا ریڈی کے تحت 69 غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کئے گئے ۔ یہ اراضی 7 ایکر 10 گنٹے ہے جو 1989 کے گزٹ کے تحت درج اوقاف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میڑچل ملکاجگری ضلع کے ڈنڈیگل میں عاشور خانہ اور چھلہ کے تحت 46 غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کئے گئے ۔ غیر سماجی عناصر نے وقف اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے فروخت کردیا تھا ۔ انہوں نے مامیڑپلی اور شہر کے دیگر نواحی علاقوں میں اوقافی جائیدادوں پر کئے گئے ناجائز قبضوں اور غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کرانے کا اعلان کیا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون سے رجسٹریشن کی منسوخی ممکن ہوسکی ہے ۔ حکومت نے باقاعدہ جی او جاری کرتے ہوئے تمام رجسٹریشن دفاتر کو اوقافی اراضیات کے رجسٹریشن سے روک دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت وقف بورڈ کو اختیار دیاگیا کہ وہ غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کرانے کیلئے محکمہ رجسٹریشن سے رجوع ہوں ۔ محمد سلیم نے کہا کہ سابق میں 100 سے زائد غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کرائے جاچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں اور بورڈ کی جانب سے غیر مجاز قابضین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تمام ضلع کلکٹرس اور سب رجسٹرار دفاتر کو وقف بورڈ سے ریکارڈ روانہ کیا جاچکا ہے۔ گریٹر حیدرآباد بلدیہ کارپوریشن سے خواہش کی گئی کہ وہ اوقافی اراضیات کے بارے میں خانگی افراد سے کوئی معاہدہ نہ کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی علاقہ میں اراضی کی خریدی سے قبل وقف بورڈ ، ایم آر او اور ضلع کلکٹر سے اراضی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اکثر و بیشتر قابضین عوام کو دھوکہ میں رکھ کر اراضیات کی پلاٹنگ کر رہے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ گزشتہ 70 برسوں میں کسی بھی حکومت نے وقف جائیدادوں پر توجہ نہیں کی لیکن کے سی آر نے باقاعدہ جی جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ وقف اراضیات کے دوسرے سروے کے لئے 8 ملازمین کا تقرر کیا گیا ہے اور کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ درگاہ حضرات یوسفینؒ کے تحت قبرستان میں تجارتی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ گزشتہ چار برسوں سے وہ قبور پر کاروبار کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کے حالیہ واقعہ کے بعد وقف بورڈ متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کرے گا جہاں وہ اپنے کاروبار شروع کرسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ قبرستان کا احترام ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ کسی بھی قبرستان میں تدفین کیلئے جگہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ مقامی اور غیر مقامی کی شرط عائد کئے بغیر ہر میت کو تدفین کی جگہ دی جائے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تمام قبرستان کمیٹیوں اور متولیوں کو پابند کیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ شاہی مسجد باغ عامہ کے طہارت خانوں کی تعمیر اور حوض کے پاس وضو کے انتظام کے سلسلہ میں بورڈ کے اجلاس میں منظوری کے بعد تعمیری کاموں کا آغاز کیا جائے گا ۔
شب برأت کے موقع پر صفائی انتظامات کی ہدایت،
انہوں نے کہا کہ تعمیری منصوبہ تیار ہے اور کنٹراکٹر کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو شب برأت کے سلسلہ میں تمام متولیوں ، کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صفائی کے انتظامات کریں تاکہ قبرستان آنے والے افراد کو تکلیف نہ ہو۔ شب برأت کے موقع پر زیارت قبور کے لئے بڑی تعداد میں مسلمان پہنچتے ہیں ، لہذا قبرستانوں میں صفائی کے علاوہ روشنی کا موثر انتظام کیا جائے ۔
اگر کوئی کمیٹی صفائی کے انتظامات کی استطاعت نہیں رکھتی تو وہ وقف بورڈ سے رجوع ہو تاکہ وقف بورڈ اپنے خرچ پر صفائی کا انتظام کرے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف شب برات بلکہ ہمیشہ صفائی کا انتظام رکھنا چاہئے۔ محمد سلیم نے بتایا کہ بہت جلد رمضان المبارک کے انتظامات کیلئے اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ واٹر ورکس اور الیکٹریسٹی محکمہ جات کو شب برأت کے موقع پر برقی اور پانی کی موثر سربراہی کی ہدایات دی گئی ہے۔



