حضرت زینب بنت جحشؓ کی مختصر سیرت
شیخ عائشہ امتیاز علی متعلمہ ! انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ
نام و نسب
حضرت زینب بنت جحشؓ کا پیدائشی نام بَرَّہ تھا، جسے نبی کریم ﷺ نے تبدیل کر کے زینب رکھا۔ آپؓ کی ولادت اعلان نبوت سے تقریباً 20 سال قبل ہوئی۔ آپؓ ان اولین خوش نصیبوں میں شامل تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔
پیغام نکاح اور ابتدائی ردعمل
رسول اللہ ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہؓ کے نکاح کے لیے حضرت زینبؓ کے گھر پیغام بھیجا۔ تاہم، حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن جحش نے اسے خاندانی فوقیت کے پیش نظر ناپسند کیا، کیونکہ اس وقت قریش کی معزز خواتین کا نکاح آزاد کردہ غلاموں سے معیوب سمجھا جاتا تھا۔
اسلامی مساوات اور بزرگی کا معیار
اسلام نے خاندانی برتری کے بجائے تقویٰ کو بزرگی کا معیار قرار دیا۔ اگرچہ حضرت زیدؓ پہلے غلام رہ چکے تھے، مگر وہ تقویٰ، عبادت اور نیک نیتی میں بلند مقام رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے قرآن مجید میں حکم نازل فرمایا:
"اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن مرد اور عورت کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔” (سورۃ الاحزاب: 36)
اس وحی کے بعد حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی نے نکاح پر رضامندی ظاہر کر دی، اور نبی کریم ﷺ نے حضرت زیدؓ سے ان کا نکاح خود فرمایا۔
نکاح کا انعقاد اور ازدواجی زندگی
رسول اللہ ﷺ نے نکاح کے وقت 10 دینار اور 60 درہم مہر ادا کیا اور حضرت زیدؓ کے لیے الگ رہائش اور بنیادی ضروریات کا انتظام فرمایا۔
اخلاق و کردار
حضرت زینبؓ اپنی نیکی، تقویٰ، عبادات اور سخاوت میں ممتاز تھیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"میں نے زینبؓ سے زیادہ پرہیزگار، راست گو، فیاض اور اللہ کی رضا جوئی میں سرگرم عورت نہیں دیکھی۔”
جب حضرت عائشہؓ پر بہتان تراشی کی گئی، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت زینبؓ سے ان کے متعلق دریافت کیا۔ حضرت زینبؓ نے سچائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
"میں نے ہمیشہ عائشہؓ کو نیک ہی پایا۔”
سخاوت اور وفات
حضرت زینبؓ خود دستکاری سے روزی کماتی تھیں اور سارا مال راہِ خدا میں خرچ کر دیتی تھیں۔ آپؓ کی وفات کے بعد مدینہ کے فقراء پریشان ہو گئے، کیونکہ وہ ان کی کفالت میں رہتے تھے۔
نبی کریم ﷺ نے ازواجِ مطہراتؓ سے فرمایا تھا:
"تم میں سے سب سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا۔”
یہ سخاوت کی طرف اشارہ تھا، اور حضرت زینبؓ اس پیشن گوئی کا پہلا مصداق ثابت ہوئیں۔ آپؓ نے اپنی زندگی میں ہی کفن کا انتظام کر لیا تھا اور سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے جا ملیں۔



