عدالت کا انوکھافیصلہ: ریپ کے 14 سالہ ملزم کو ’وردھا آشرم ‘ میں بوڑھوں کی’سیوا‘ کا حکم
ساگر :(اردودنیا.اِن)مدھیہ پردیش کی ایک عدالت نے عصمت دری کے الزام میں ملزم بچے کو انوکھا سزا سنائی ہے،اسے بطور سزا چھ ماہ تک وردھا آشرم(اولڈ ہوم) میں بزرگ کی خدمت کرنی ہوگی۔ ملزم کی عمر 14 سال ہے اور اس نے 14 سال کی نابالغہ کی عصمت دری کی تھی۔نابالغہ 23 جولائی 2018 کو ضلع دموہ کے تھانہ مڑیادوکے تحت اپنی خالہ کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی۔ خالہ نے بازار میں خریداری شروع کی اور لڑکی بس اسٹینڈ پر کھڑی تھی، جب خالہ سامان لے کر لوٹی، تو لڑکی نہیں ملی، آس پاس تلاش کرنے پر لڑکی نہیں ملی،پھر جب وہ گھر پہنچی تووہ وہاں بھی نہیں ملی ۔
لڑ کی کی والدہ نے 26 جولائی 2018 مڑیادو پولیس اسٹیشن میں اس واقعے کی اطلاع دی تھی، پولیس نے کیس کی تفتیش کرتے ہوئے ملزم کوگرفتار کرلیاتھا۔ ملزم کشور اور لڑکی ایک ہی گاؤں کے رہائشی ہیں، پہلے سے ہی آپس میں شناسائی تھی ۔ عدالت نے ملزم کشور کو دفعہ 376 (3) اور 366 میں سزا سنائی ہے۔ 3 ہزار روپے جرمانہ کابھی حکم دیا ہے ۔ ملزم کو وردھا آشرم میں چھ ماہ ضعیف العمر لوگوں کی خدمت انجام دینے کی سزا سنائی ہے۔
خصوصی سرکاری وکیل بی ایم شرما نے حکومت کی طرف سے وکالت کی۔ پراسیکیوشن میڈیا سیل انچارج کے مطابق ملزم کی عمر تقریبا 16 16 سال ہے لہٰذا اس کیس کو خصوصی عدالت میں لے جایا گیا۔ یہاں ملزم کی عمر دیکھتے ہوئے عدالت نے اسے سخت سزا نہ دیتے ہوئے جرمانے اور اولڈہوم میں بوڑھوں کی خدمت کی سزا سنائی ہے ۔



