راجستھان میں ممنوعہ سلیپر سیل کیس: عدلیہ نے7 برس قبل گرفتار13 انجینئرنگ کے طلبا میں سے 12 کو قراردیادہشت گرد ، عمر قیدکی سزا
جے پور:(اردودنیا.اِن) جے پور کی ضلع عدالت نے مبینہ سیمی کے 13 میں سے 12 ارکان کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا ئی ہے۔ ایک ملزم کو اس الزام سے بری کیا گیا۔خیال رہے کہ یہ تمام انجینئرنگ کے طالب علم تھے جومبینہ طو رپر انڈین مجاہدین کے لئے کام کرتے تھے۔ انہیں 2014 میں اے ٹی ایس اور ایس او جی نے گرفتار کیا تھا۔ ان میں 6 سیکر سے، 3 جودھ پور کے ہیں ، ایک جے پور اور پالی کے ، جب کہ ایک بہار کے شیرگھاٹی، گیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے الزام سے بری ہونے والاواحد طالب علم جودھ پور کا ہے۔واضح ہوکہ راجستھان میں سمی کے سلیپر سیل سے متعلق معاملہ سات سال پرانا ہے۔
راجستھان میں اے ٹی ایس اور ایس او جی ٹیم نے دہلی میں گرفتارلوگوں کی سے ملی ان پٹ کی بنیاد پر 2014 میں جے پور ، سیکر اور کچھ دیگر اضلاع میں 13 مشتبہ نوجوانوں کو گرفتار کیاتھا۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ یہ کالعدم تنظیمیں سیمی سے وابستہ ہیں اور راجستھان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے کے لئے بم سازی جیسی ممنوعہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اے ٹی ایس نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ سیلپر سیل کو متحرک کرنے میں جے پور سے گرفتار معروف کے رشتہ دارعمر کا ہاتھ ہے۔عمر نے ان نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ذریعہ تنظیم سے جوڑاتھا۔ اس کے بعدیہ نوجوان دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے۔ اے ٹی ایس اور ایس او جی نے دہشت گردانہ کاروائیوں سے قبل ہی 13 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ۔ اس معاملہ میں گزشتہ سات سالوں سے عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ اس معاملے میں استغاثہ نے 178 گواہان اور 506 دستاویزی فلمیں ثبوت عدالت میں پیش کیں۔ اس میں سرکاری وکیل لیاقت خان نے پیروی کی ۔ایس ٹی ایس کے دعویٰ کے مطابق یہ جعلی دستاویزات سے سم خریدنے ، فنڈ اکٹھا کرنے ، دہشت گردوں کو پناہ دینے اور بم دھماکوں کے لئے ریکی کرنے جیسے معاملات میں مجرم پائے گئے ہیں۔
اے ٹی ایس نے ان کے پاس سے لیپ ٹاپ ، فون ، پین ڈرائیو ، کتابیں ، دستاویزات اور الیکٹرانک چیزیں برآمد کی تھی۔ دہلی اے ٹی ایس کی اطلاع پر راجستھان اے ٹی ایس نے 28 مارچ 2014 کو اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کیاتھا۔ضلعی عدالت نے جنہیں دہشت گرد مان لیا ہے ، ان کے اسماء بالترتیب یوں ہیں :
1. محمد عمار یاسر ولد محمد فیروز خان ، عمر 22 سال،شیرگھاٹی ، گیا، بہار، 2. محمد سجاد ولد اقبال چوہان (32) سیکر،3. محمد عاقب ولد اشفاق بھاٹی (22)، سیکر،4. محمد عمر ولد ڈاکٹر محمد الیاس (18)، سیکر،5. عبدالواحد غوری ولدمحمد رفیق (26)،سیکر،۔6. محمد وقار ولد عبد الستار ، سیکر،. عبدالمجید ولد اسرار احمد (21)، محلہ ، سیکر، 8. محمد معروف و لد فاروق انجینئر، جے پور،9. وقار اظہر ولد محمد تسلیم رضا ، 20 ،پالی،10. برکت علی ولدلیاقت علی ، جودھ پور،11. محمد ثاقب انصاری ولد محمد اسلم ، جودھ پور،12. اشرف علی خان ولد صابر علی، جودھ پور۔ وہیں مشفق اقبال ولد چھوٹو خان 32) جودھ پور کودہشت گردی کے الزام سے بری کردیا گیا ہے۔
فیصلہ کا مطالعہ کرنے اور سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، گلزار اعظمی
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم مشرف اقبال چھوٹو بھائی کو عدالت نے باعزت بری کردیا، ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ علماء نے سینئر ایڈوکیٹ سنہ دیپ کھیالیا کی خدمت حاصل کی تھی۔
عمر قید کی سزا پانے والے دیگر ملزمین میں محمد وقاروکیل احمد ، محمد عاقب اشرف، محمد عمر محمد الیاس، عبدالمجید اسرار احمد، سجاد چوہان، معروف امیرالدین اور عبدالواحیدچوہان شامل ہیں۔
ملزمین پر الزام تھا کہ یہ لوگ ممنو ع تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہیں اور یہ راجستھان اور دہلی میں بم دھماکہ انجام دینا چاہتے تھے۔ملزمین کی گرفتاری 23 مارچ 2014 کو عمل میں آئی تھی۔
ملزمین پر تعزایت ہند کی دفعہ 120B,121,121A,122,465,467.471، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعہ 4,5,6 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانو ن کی دفعہ 16,17,18,18A,18B,19,20,23 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ فیصلہ کا مطالعہ کرنے اور سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعدا گلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔




