بین ریاستی خبریں

من سکھ ہیرین کی موت کا معاملہ: این آئی اے نے سچن وازے کی ساتویں کاربھی کرلی برآمد

ممبئی: (اردودنیا.اِن)این آئی اے صنعت کار امبانی کے گھر اینٹیلیا کیس کی تحقیقات کررہی ہے ، ا س نے منگل کے روز نوی ممبئی کے کموٹھو علاقہ سے ایک کار برآمد کی ہے۔ اس کار کو سچن وازے کے معاون API پرکاش اوول نے استعمال کیا تھا۔ این آئی اے کو شبہ ہے کہ اس کار میں من سکھ ہیرین کا قتل کیا گیا تھا۔

یہ اب تک برآمد شدہ 7 کاروں میں سے پہلی کار ہے جو سچن وازے کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ ایک آؤٹ لینڈر کار ہے،اسے 2011 میں رجسٹرڈ کیا گیا۔اس سے قبل اتوار کے روز ٹیم نے ممبئی کے دریائے میٹھی سے ایک کمپیوٹر ہارڈ ڈسک ، ڈی وی آر ، سی ڈی ، ایک گاڑی کی دو نمبر پلیٹ اور دیگر الیکٹرانک آلات برآمد کئے تھے ۔ اب اس نمبر پلیٹ کے بارے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔این آئی اے کو پتہ چلا ہے کہ نمبر پلیٹ ریاست کی محکمہ سماجی بہبود میں کلرک کی حیثیت سے کام کرنے والی جالنا کے رہائشی ونے ناڈے کی ایک چوری شدہ ماروتی ایکوکار کی ہے۔

یہ کار اورنگ آباد سے چوری کی گئی تھی اور اس کی گمشدگی کی اطلاع اورنگ آباد کے سٹی چوک پولیس اسٹیشن میں 20 نومبر 2020 کو ملی ہے۔ این آئی اے اب اس بات کا پتہ لگارہی ہے کہ آیا API سچن وازے اس کار سے کوئی او ر واردات کرنے والا تھا ، یا وہ اس معاملہ میں بھٹکانے یا فرار ہونے میں استعمال کرتا۔

نمبر پلیٹ کی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد ونے خود پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایچ 20-FP-1539 T نمبر والی اس کی کار 16 نومبر 2020 میں چوری ہوئی تھی۔ اس نے اس کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ وہ ایف آئی آر کی ایک کاپی بھی لے کر آئے تھے۔

 

 

 

 

یہ انکشاف ہوا ہے کہ اتوار کے روز دریائے میٹھی سے برآمد ہونے والا لیپ ٹاپ سچن وازے کا تھا اور وہ اس سے سرکاری کام کرتا تھا، تاہم اس کے اندر موجود تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کردیئے گئے ہیں اور اس کی ہارڈ ڈسک کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button