
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں ڈی ایم کے چیف ایم کے اسٹالن کے داماد کے ٹھکانے پر محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپہ ماری کے تحت بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتیں الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ مرکزی ایجنسیاں بی جے پی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے بالواسطہ جمہوری عمل میں مداخلت کررہی ہیں۔
ایسے وقت میں جب چار ریاستوں اور ایک مرکزی علاقوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں ، انکم ٹیکس حکام کے چھاپہ ماری پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کے روز ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ:’ جب انتخاب میں شکست کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، تو حزب اختلاف پر چھاپے ماری کا ہتھکنڈہ استعمال کررہی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ڈی ایم کے چیف ایم کے اسٹالن کے داماد سبری سن اور ان کے معاونین پر سرچ آپریشن صبح آٹھ بجے شروع ہوا۔
ڈی ایم کے نے الیکشن کمیشن کو اس کارروائی کے خلاف شکایت کرتے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے اسے طاقت کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔ تمل ناڈو کی حزب اختلاف کی جماعت ڈی ایم کے نے الیکشن کمیشن کو اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اے این اے ڈی ایم کے – بی جے پی کے انتخاب میں ممکنہ شکست کے پیش نظر چھاپہ مار کاروائی کررہی ہے ۔
واضح ہو کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے جن مقاما ت پر چھاپہ ماری کی ہے ، ان میں چنئی شہر کے نواح میں نیلن گرائی واقع ایک مکان بھی شامل ہے ،جہاں اسٹالن کی بیٹی اپنے شوہر سبری سن کے ساتھ رہتی ہے۔ دوسری جانب محکمہ انکم ٹیکس کے ذرائع نے بتایا کہ انتخابی مہم کے لئے ’کیش موومنٹ‘ کا ان پٹ ملنے کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔



