بین الاقوامی خبریں

بعد از داعش زندگی, سابق جنگجوؤں کا اظہارِ ندامت، معاشرے میں نئی شروعات کے خواہاں

لندن : (ایجنسیاں)سخت گیرجنگجوگروپ داعش کے سابق ارکان اور معاونین نے اپنے ماضی پر ندامت کا اظہار کیا ہے اوراب وہ جیلوں یا حراستی مراکز سے رہائی کے بعد ایک نئی زندگی کی شروعات چاہتے ہیں۔انھوں نے العربیہ کے ایک دستاویزی پروگرام میں تفصیل سے اپنی سابقہ زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔

العربیہ کی رپورٹر رولا الخطیب نے شام اور عراق میں حراستی مراکز اور جیلوں میں جا کر داعش کے سابق جنگجوؤں اور ان کی خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔انھوں نے پہلی مرتبہ بعض ہوشرباانکشافات کیے ہیں اورداعش کی جنگی زندگی کی اس طرح کی تفصیل پہلی مرتبہ منظرعام پرآئی ہے۔العربیہ کی نمائندہ نے ’’فیس ٹو فیس: داعش کے آدمی پنجرے سے باہر‘‘کی قسط میں اس دہشت گرد گروپ کے چار سابق ارکان سے گفتگو کی ہے۔

انھیں ان کے دہشت گردی سے متعلق جرائم پرجیل کی سزا ہوئی تھی اور اب وہ رہائی ے بعد شام کے مشرقی شہر دیر الزور میں رہ رہے ہیں۔ان میں سے ایک شخص نے صرف فہد کے نام سے اپنی شناخت کرائی تھی۔انھوں نے نمائندہ کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دی، تاکہ وہ داعش کے ساتھ بیتے دنوں کے بارے میں کھل کر بات کرسکیں۔

فہد کی شناخت کو چھپانے کے لیے ان کا چہرہ ظاہر نہیں کیا۔فہد کو اب بھی داعش کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ وہ خوف زدہ ہیں۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گرد گروپ تو اب بھی شام میں موجود ہے اوروہ گروپ کے سابق ارکان سے رابطہ کرسکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ یہاں دیر الزورمیں سکیورٹی کے نقطہ نظر سے حالات آئے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔اس لیے ہم خوف زدہ ہیں،ہم رات کے وقت باہر نہیں نکل سکتے اوراپنے گھروں ہی میں مقیّد رہتے ہیں۔

ایک اور سابق جنگجو نے اپنی شناخت صرف ایف اے اے کے نام سے کرائی۔ وہ عراق کے ضلع سنجار میں داعش کی جانب سے عراقی فورسز کے خلاف لڑتے رہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ داعش نے انھیں شام میں ان کے آبائی قصبے سے لڑائی کے لیے بھرتی کیا تھا۔لیکن وہ بتاتے ہیں کہ داعش جس طرح کی تشددآمیز کارروائیاں کر رہے تھے، وہ ان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔وہ داعش میں شمولیت کی ایک بالکل مختلف وجہ بتاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’میں تو بھوکا تھا،ہمارا علاقہ داعش کے محاصرے میں تھا۔ہم نوجوان آدمی تھے۔اس لیے ہم یا توان کی (داعش کی) صفوں میں شامل ہوتے یا پھر ہم بھوک سے مرتے کیونکہ ہم نان جویں کو ترس رہے تھے۔اس لیے میں ان کے ساتھ شامل ہوگیااور محاذِ جنگ پر بھی گیا تھا لیکن میں نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا ۔ایف اے اے کو امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) نے دیرالزورمیں گرفتارکیا تھا اور دوسال قید کی سزاسنائی تھی۔انھیں تین ماہ قبل ہی جیل سے رہا کیا گیا ہے اور اب وہ نئی زندگی شروع کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں ایک نئی زندگی چاہتاہوں، ایک ایسی زندگی جس میں میرا گھر ہواور میرا اپنا کام ہو۔

میرے پاس کوئی روزگار ہے اور نہ کوئی رقم ہے۔ان سے جب کہا گیا کہ اگر داعش واپس آجاتے ہیں اورانھیں رقم کی پیش کش کی جاتی ہے تو ان کا ردعمل کیا ہوگا؟ایف اے اے کا جواب تھا کہ ’’وہ اس رقم کو لینے سے انکار کردیں گے، خواہ وہ اس وقت مالی طور پر کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں۔ان کے تین بیٹے ہیں۔ان میں سے ایک نے داعش میں شمولیت اختیارکی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ماضی والی غلطی کا اعادہ نہیں کریں گے اور اگر کوئی ان سے رابطہ کرے گا تو وہ اس کے بارے میں شام کے انٹیلی جنس ایجنسی یا محکمہ قومی سلامتی کو بتادیں گے۔’’میں براہ راست ان محکموں کے پاس جاؤں گا کیونکہ میں اپنے تلخ تجربے کے بعد ان داعشیوں سے سخت نفرت کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button