بین ریاستی خبریںسرورق

آسام کے ایک پولنگ بوتھ پر جملہ ووٹرس 90،مگر 181 ووٹ ڈالے گئے

گوہاٹی :(اردودنیا.اِن) آسام کے ضلع دیما ہساوکے پولنگ بوتھ جہاں صرف 90 رائے دہندے رجسٹرڈ ہیں اور انہی کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے لیکن اسی پولنگ بوتھ پر181 ووٹ ڈالے گئے ہیں۔یہ سنگین بے ضابطگی آج پیر کو عیاں ہوئی ، جب عہدیداروں نے گزشتہ مرحلہ کی پولنگ کے اعداد و شمار کا انکشاف کیا۔ حلقہ اسمبلی ہفلانگ کے اس بوتھ پر یکم اپریل کو دوسرے مرحلہ کے تحت ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ ہفلانگ میں 74 فیصد پولنگ درج ہوئی۔

جیسے ہی یہ واقعہ منظر عام پر آیاڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر نے بوتھ کے 5 انتخابی عہدیداروں کو معطل کردیا۔ الیکشن کمیشن نے جن 6 انتخابی عملہ کے عہدیداروں کو اس معاملہ میں معطل کیا ہے ان میں سیکوسیم لہنگم ، پرہلاد سی ایچ رائے ، پرمیشور چارنگسا ، سواراج کانتی دا س اور للزاملو تھیک شامل ہیں۔اور امکان ہے کہ اس پولنگ بوتھ پر دوبارہ رائے دہی کا حکم جاری کیا جائے گا۔


یہ بوتھ 107(A) کوتھلیر ایل پی اسکول میں قائم کیا گیا تھا۔ آفیسر نے ری پولنگ کی تجویز پیش کردی ہے ۔ تاہم اس بوتھ پر دوبارہ رائے دہی کا سرکاری حکمنامہ ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جاریہ اسمبلی الیکشن میں یہ بے ضابطگی کے پہلا واقعہ نہیں۔ یکم اپریل کو پولنگ کے اختتام پر آسام میں ہی ایک مرکز رائے دہی سے مستعملہ ای وی ایم کی منتقلی میں متعلقہ عہدیداروں نے حد درجہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ای وی ایم کو خانگی گاڑی کے ذریعہ اسٹرانگ روم کو منتقل کیا تھا جہاں مقامی عوام نے اس کی نشاندہی کی اور وہاں پرتشدد احتجاج دیکھنے میں آیا تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئے زمانہ کا ہندوستان ہے جہاں نہ صرف الیکشن بلکہ نظم و نسق کے کوئی بھی شعبہ میں کچھ بھی بے قاعدگی واقع ہوسکتی ہے

آسام میں تین مرحلوں میں رائے دہی ہورہی ہے جس کا آغاز 27 مارچ کو ہوا ،دوسرا مرحلہ گزشتہ ہفتہ ہوا اور اب ان انتخابات کیلئے آخری مرحلہ کے تحت کل 6 اپریل کو رائے دہی منعقد ہوگی۔آسام میں برسراقتدار بی جے پی کوکانگریس اتحاد والے مہا جوٹ اوراپوزیشن اتحاد سے سخت مقابلہ درپیش ہے جس میں سابق اتحادی بوڈو لینڈ پیوپلس فرنٹ بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button