
ممبئی:(نامہ نگار)گذشتہ سال دہلی فسادات کے دوران شیووہارعلاقہ میں واقع مدینہ مسجدکوفسادیوں نے آگ لگادی تھی اورایل پی جے سلینڈرسے دھماکہ کیاتھا۔اس واقعہ سےپر سوشیل میڈیاپرانڈین ایکسپر یس کیلئے صحافی آنندموہن کی پیش کردہ رپورٹ سے حاصل کردہ جانکاری کے مطابق دہلی کے ایک جج نے واقعہ کی پولس تحقیقات پرناراضگی جتائی اورپولس کو لتاڑا۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ونود یادونے مدینہ مسجدکی آتشزنی کی بابت پولس کواصل ڈیلی ڈائری پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے پولس کولتاڑتے ہوئے کہاکہ پولس نے اپنی تحقیقات میں فرائض میں کوتاہی کاثبوت دیاہے۔ عدا لت نے ہاشم علی نامی ایک مسلم کی اس سلسلے میں گرفتاری پرسخت ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے پولس کوہدایت دی کہ وہ ہاشم علی سے متعلق ایف آئی آراصل ڈیلی ڈائری کے اندراج عدالت کوپیش کرے۔
ہاشم علی کے وکیل ایم آرشمشادنے عدالت کوبتایاکہ پولس نے مدینہ مسجدکی آتشزنی سے متعلق ایف آئی آرمیں ہاشم علی کے ایف آئی آرکوضم کردیا،اورمعاملہ کومسخ کرنے کی کوشش کی۔مبصرین نے رائے ظاہر کرتے ہو ئے کہاکہ دہلی فسادات کوایک سال گزرچکاہے اورپولس کی کوتاہیوں پرعدالت میں ڈانٹ،پھٹکارسے آگے کچھ نہیں ہورہاہے۔
۔۔



