حیدرآباد:31/ڈسمبر (اردودنیانیوز) تلنگانہ پولیس نے ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور اس کے بچوں کو بچالیا جو مہاراشٹرکے ایک شخص کو ایک لاکھ روپئے میں فروخت کردی گئی تھی۔اس شخص نے خریدی گئی خاتون کو اپنی تیسری بیوی بنالیا تھا۔تلنگانہ کی ویمل واڑہ پولیس نے خاتون اور اس کے بچوں کو بچانے کا کامیاب آپریشن کیا۔اس خاتون کا تعلق راجنا سرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ سے ہے جو شوہر کے ساتھ ہوئے جھگڑے کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
وہ آٹو کے ذریعہ ضلع کاماریڈی گئی اور پھر وہاں سے وہ بذریعہ ٹرین سکندرآباد اسٹیشن پہنچی۔اس ریلوے اسٹیشن پر خاتون کو دو دنوں تک دیکھتے ہوئے ایک معمر خاتون اس کو ملازمت کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے مہاراشٹرکے پربھنی لے گئی۔بعد ازاں اس ضعیف خاتون نے مورا نامی شخص کو ایک لاکھ روپئے میں اسے فروخت کردیا۔بعد ازاں ان دونوں نے اس خاتون کو ناسک کے رہنے والے راجہ رام کے حوالے کردیا۔بعد ازاں اس خاتون کوراجہ رام کے برادرنسبتی بابو لکشمن جگپت کی تیسری بیوی کے طورپر رہنے کے لئے مجبور کیاگیا۔بابو لکشمن نے اپنی پہلی بیوی کے چل بسنے کے بعد دوسری خاتون سے شادی کی تھی تاہم اس نے بعد ازاں اس سے علحدگی اختیار کرلی۔متاثرہ خاتون نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم جگپت نے اس کے بچوں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی اور اس کا فون چھین لیا۔ خاتون نے کسی طرح سل فون کے ذریعہ اپنے شوہر کو کال کیا۔
اپنی بیوی کی ایسی حالت پر شدید مایوسی کااظہار کرتے ہوئے خاتون کے شوہر نے فوری طورپر پولیس سے شکایت کی جس کے بعد ویمل واڑہ پولیس نے اس مقام کا پتہ چلایا جہاں سے خاتون نے فون کیا تھااوربعد ازاں اس خاتون کو وہاں پہنچ کر بچایا۔پولیس نے کہاکہ موبائل فون کے سگنلس کی مدد سے خاتون کا پتہ چلایاگیا۔لکشمن کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیاگیا۔