
رانچی :(اردودنیا.اِن)موصولہ اطلاع کے مطابق رانچی کے سب سے بڑے سرکاری دفتر سکریٹریٹ میں کورونا بلاسٹ ہوگیا ہے ۔ہندی اخبار’دینک بھاسکر ‘کے مطابق ہر محکمے میں کرونا متأثرہ شخص پایا جارہا ہے ۔ انفیکشن کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر 96 لوگوں کی رپورٹ پازیٹیو آئی ہے ،علاوہ ازیں 4 افراد ہلاک بھی ہوگئے ہیں۔ مزید برآن اب بھی 92 سے زائد کرونا مشتبہ ہیں ، جوحسب معمول دفتر آرہے ہیں۔
جھارکھنڈ سکریٹریٹ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت کو اپنے ملازمین کے تئیں ذمہ دار ہونا چاہیے ،اگر لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے ،تو کم از کم بہتر انتظامات کیے جانے چاہیے ۔ یونین کے جنرل سکریٹری پکیش کمار کے مطابق یہاں ٹاٹا کی طرح پی او ڈی سسٹم نافذ کیا جانا چاہئے اور ہفتہ وار روسٹر سسٹم کے ذریعے ملازمین کو دفتر بلایا جانا چاہیے ۔پی کیش کمار نے بتایا کہ پچھلے سال لوگوں کو سکریٹریٹ میں کیمپ لگا کر لوگوں کی جانچ کی جارہی تھی ،لیکن اس سال پورا سسٹم خستہ حالی کا شکار ہے ۔
ایک شخص کے کروونا متأثر ہوجانے کے بعد دفتر کو ایک دن کے لئے بند کر کے سینی ٹائز کیا جانا چاہیے تھا ، لیکن اس بار ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ۔واضح ہو کہ اطلاع کے مطابق صدر اسپتال رانچی کے 7 ڈاکٹرز اور 3 ہیلتھ ورکرز بھی کرونا متأثر ہوگئے ہیں۔ تینوں ہیلتھ ورکرز کے سیمپل لئے جا رہے ہیں ۔
تمام متاثرہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ نیز صدر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اسپتال کے احاطے کو سینی ٹائز کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریمس کے ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ کے 4 طلباء کے بھی کرونا متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔محکمہ زمینی محصول میں 10 افراد کورونا متاثرہ ہیں،اور 8 افراد کرونا مشتبہ ہیں۔



