بین ریاستی خبریں

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے نام الیکشن کمیشن کا نوٹس، صبح 11 بجے تک جواب،وزیراعلیٰ سخت برہم

کولکاتہ:(اردودنیا.اِن)مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے تین مراحل گزر چکے ہیں،البتہ اب بھی ریاست میں زبردست سیاسی اتھل پتھل کا ماحول برقرار ہے۔ بی جے پی ترنمول کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کے ذریعہ سخت کلامی اور بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے ۔دریں اثناء الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

غور طلب ہے کہ یہ دوسرا موقعہ ہے ، جب الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بنگال ممتا بنرجی کے نام ان کی بیان کو لے کر نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی پر انتخابی تشہیر کے دوران سی ایس ایف (سنٹرل سیکورٹی فورسز) اور بی ایس ایف (بارڈر سیکورٹی فورسز) کو لے کرمبینہ طو ر پر غلط بیان بازی کا الزام ہے۔ الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے نوٹس کا جواب 10 اپریل کو 11 بجے تک دینے کے لیے کہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ماڈل کوڈ کے کئی سیکشن کے ساتھ قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے بیان کے ذریعہ ضابطہ اخلاق کے ساتھ ہی تعزیرات ہند کی دفعہ 186، 189 اور 505 کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف سے نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

واضح ہو کہ الیکشن کمیشن نے 28 مارچ اور 7 اپریل کو ممتا بنرجی کے ذریعہ کی گئی تقاریر کا حوالہ دیا ،جس میں وزیر اعلیٰ نے سنٹرل فورسز پر ووٹروں کو دھمکانے کا الزام عائد کیا اور خواتین کو پیچھے ہٹنے یا سنٹرل فورسز کے ذر یعہ گھیراؤکرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

دوسری طرف ممتا بنرجی الیکشن کمیشن سے نوٹس ملنے کے بعد انتہائی برہم نظر آرہی ہیں ۔

انھوں نے بی جے پی کی سخت نکتہ چینی کرتے ملک کو فروخت کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آ پ نے ملک کو بیچ دیا ہے۔ آپ نے میرے بارے میں جھوٹ بولنے کے لیے قومی میڈیا سے کہا ہے۔

آپ نے میرے خلاف شکایت درج کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ جب انھوں نے ہندو-مسلمان کے بارے میں بات کی، تو نریندر مودی اور بی جے پی لیڈروں کے خلاف کوئی شکایت کیوں نہیں کی گئی؟ جب کہ لازم تو یہ تھا کہ ان کے خلاف بھی ضابطہ کے مطابق کاروائی کرنی چاہیے تھی ، انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھوں کیلئے برابر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button