بین ریاستی خبریں

سچن وازے کا مبینہ معاون ریاض قاضی گرفتار ،بھیجا گیا این آئی اے کی تحویل میں

ممبئی :(اردودنیا.اِن) ممبئی میں انٹیلیا کیس میں مشتبہ کار کے تحت این آئی اے نے دوسری گرفتاری کی ہے ۔ ممبئی پولیس کےAPI ریاض قاضی گرفتارکیا ہے۔ ریاض قاضی سچن واز ے کی ٹیم کے ممبر تھے، اس پر مبینہ طور پر شواہد مٹانے کا الزام ہے۔ این آئی اے نے ریاض قاضی کو رات ساڑھے بارہ بجے گرفتار کیا۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ قاضی اس کیس میں سچن وازے کا معاون ہے ۔

عدالت نے ریاض قاضی کو 16 اپریل تک این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔اطلاع کے مطابق 8 مارچ کو اس کیس کے این آئی اے کے سپرد کئے جانے کے بعد سچن وازے اور ریاض قاضی نے شواہد مٹانا شروع کردیئے تھے۔ ریاض قاضی کو معلوم تھا کہ سچن وازے نے کار کھڑی کی تھی۔شواہدکے ضیاع میں قاضی کا اہم کردار رہا ہے۔

سی پی یو اور ڈی وی آر کو ضائع کرتے وقت ریاض قاضی سچن کے ساتھ موجود تھے۔ ایسی بہت سی سی سی ٹی وی فوٹیج ہیں جن میں قاضی اور سچن وازے دونوں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس صرف جلاٹین یا من سکھ قتل تک محدود نہیں ہے۔اس سازش کی مالی اعانت کس نے کی؟ جلا ٹین کہاں سے لایا گیا؟ اوراس کا کیا مقصد تھا؟ اس سلسلے میں این آئی اے کوسچن وازے سے نصف معلومات مل چکی ہیں ،تاہم مکمل تسلی بخش تفصیلات اور بے ربط کڑیوں کو جوڑنے میں ریاض قاضی کی حراست ضروری ہے۔

دوسری جانب ، ریاض قاضی کے وکیل نے این آئی اے حراست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاض قاضی سے 20 دن سے تفتیش کی جارہی ہے۔ جو بھی اسے معلوم ہے ، اس نے بتا دیا ہے۔ جب بھی بلایا گیا ، گیااور مکمل تعاون کیا ہے۔

وکیل نے مزید واضح کیا کہ اگر ریاض قاضی اس سازش میں ملوث تھے، تو اپنے خلاف ہی کیوں ثبوت اکٹھا کرتا،اس کی ڈائری میں انٹری کیوں کرتا؟سچن وازے کو 26 دن تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد بھی این آئی اے یہ جاننے میں ناکام رہی ہے کہ کیوں اور کیسے یہ سازش کی گئی، اب میرے مؤکل کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔تاہم عدلیہ 16 اپریل تک API ریاض قاضی کو این آئی اے کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button