گوشہ خواتین و اطفال

صحت مند خواتین، صحت مند معاشرہ – عورت کی صحت اور سماجی رویے کا المیہ

ازقلم:ام ہشام،ممبئ

عورت کی صحت اور سماجی رویے – سنجیدہ مسئلہ یا مذاق؟

دن بھر کی تھکن اور مصروفیت کے بعد جب شوہر گھر آتا ہے اور بیوی پر نظر پڑتی ہے تو اکثر اس کا موڈ مزید خراب ہو جاتا ہے۔ سلم اور فٹ نظر آنے کی عادت نے حقیقت کو دھندلا دیا ہے، یہاں تک کہ فون کے وال پیپر پر نظر آنے والی ماڈل بھی حقیقت کے برعکس خوبصورتی کا معیار بنا دی جاتی ہے۔ نتیجتاً، کچن سے پانی کا گلاس لے کر آنے والی خاتون کا سراپا نظر آتے ہی شوہر کا رویہ بدل جاتا ہے۔

یہ مسئلہ ہر مشرقی گھر کی کہانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک دبلی پتلی، نازک سی لڑکی شادی کے بعد اور خاص طور پر پہلے بچے کی ولادت کے بعد اتنی تبدیل کیوں ہو جاتی ہے؟ کیا اس کے پیچھے صرف غیر متوازن غذا اور بے احتیاطی ہے، یا اس کے حقیقی اسباب کچھ اور ہیں؟

عورتوں میں بڑھتا موٹاپا اور پوشیدہ بیماریاں

آج کے دور میں ہندوستانی خواتین کی تقریباً 90 فیصد تعداد PCOD (Polycystic Ovarian Disorder) اور PCOS (Polycystic Ovary Syndrome) جیسی بیماریوں کا شکار ہے، جن کی وجہ سے جسمانی تبدیلیاں، ہارمونی عدم توازن، نیند کی کمی، اینیمیا، ماہواری کی بے قاعدگیاں، بار بار اسقاط حمل اور وزن میں غیر معمولی اضافہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

یہ مسائل کسی کے لیے ہنسی مذاق کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ معاشرے کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ خواتین کا اچانک موڈ خراب ہونا، چڑچڑاپن، سستی، ذہنی دباؤ اور کاہلی بھی ممکنہ طور پر کسی جسمانی بیماری یا ہارمونی بگاڑ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ Cortisol جیسے اسٹریس ہارمون کی زیادتی ہائی بلڈ پریشر، جلدی بیماریاں، ڈپریشن اور دیگر پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔

PCOS/PCOD اور خواتین کی صحت پر اثرات

یہ بیماری عورت کے تولیدی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فطری نظام میں خرابی کے باعث خواتین کے بیضے رحم میں مکمل طور پر تیار نہیں ہو پاتے اور وہ سسٹ (چھوٹے رسولیوں) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں:

  • ماہواری کی بے قاعدگی (کم ہونا، زیادہ ہونا یا مکمل بند ہو جانا)

  • بانجھ پن اور دیگر پیچیدہ امراض

  • ایسٹروجن کی زیادتی سے جسم میں غیر ضروری بالوں کا اُگنا (جیسے داڑھی اور مونچھ کے مقام پر)

  • کیل مہاسے، تھکن، نیند کی کمی، ڈپریشن اور وزن میں تیزی سے اضافہ

یہ مسائل عام نہیں بلکہ سنگین نوعیت کے ہیں، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عورتوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔

خواتین کی مدد کیسے کی جائے؟

ڈاکٹری معائنہ لازمی کروائیں: اگر گھر کی خواتین یا بچیوں میں وزن بڑھنے، چڑچڑاپن، نیند کی کمی، موڈ سوئنگز یا دیگر علامات نظر آئیں تو فوری طور پر کسی گائناکولوجسٹ سے رجوع کریں۔

گھر کا ماحول بہتر بنائیں: خواتین کے روزمرہ کاموں کا دباؤ کم کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ وہ مناسب نیند اور متوازن غذا حاصل کر سکیں۔

غذا اور فٹنس کا خیال رکھیں: پروسیسڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور زیادہ چکنائی والے کھانوں کی جگہ متوازن غذا اپنانے میں مدد کریں، دن میں کم از کم 8 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں اور واکنگ یا ایکسرسائز کو معمول بنائیں۔

اسٹریس کم کریں: شوہر، والدین اور دیگر گھر والے خواتین کے لیے محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

معاشرتی رویے بدلیں: خواتین کے وزن اور ظاہری شکل پر طنز کرنے کے بجائے، انہیں صحت مند بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

ایک صحت مند عورت، ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ وزن بڑھنے پر طنز یا مذاق کرنے کے بجائے، خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت کی بحالی میں مدد کریں تاکہ وہ ایک خوشحال اور متحرک زندگی گزار سکیں۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ اور تعاون کسی کی پوری زندگی بدل سکتا ہے!

متعلقہ خبریں

Back to top button