
لندن: (ایجنسیاں)کینیڈا کے ایک ممبر پارلیمنٹ کے گال اس وقت شرم سے لال ہو گئے جب وہ زوم میٹنگ کے دوران کیمرہ بند کرنا بھول گئے اور برہنہ حالت میں باتھ روم سے باہر نکلے اور اجلاس میں موجود لوگوں کو بھی شرمندہ کر دیا۔ برطانوی اخبار ’دی سن‘ کے مطابق لبرل پارٹی کے ممبر ولیم آموس نے اجلاس کے شرکا سے معذرت کی ہے۔
Anyone recognize this MP wandering around in the buff in their office while taking part in the hybrid Parliament? Obviously, given the flag, they are from Quebec. Wonder what kind of mobile phone he uses? #cdnpoli pic.twitter.com/HWOeR9ZJBV
— Brian Lilley (@brianlilley) April 14, 2021
جب ولیم باتھ روم سے نکلے تو وہ بالکل برہنہ تھے، ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھا۔ ان کے ایک طرف سے کینیڈا کا جھنڈا تھا اور دوسری طرف کیوبک صوبے کا۔ اور اسی دوران لیپ ٹاپ کا کیمرہ آن ہو گیا۔46 سالہ ممبر صوبائی اسمبلی نے اپنی ایک ٹویٹ میں واقعے پر معذرت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’آج میں نے بہت بڑی غلطی کر دی اور ظاہر ہے کہ میں اس پر شرمندہ بھی ہوں۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’جاگنگ سے آنے کے بعد کپڑے بدلتے ہوئے میرا کیمرہ چلتا رہ گیا۔
میں ہاؤس میں موجود اپنے ساتھیوں سے معذرت کرتا ہوں۔ یہ بڑی غلطی تھی۔ ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔ولیم آموس نے اس کے بعد ورچوئل اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، لیکن اگر انہوں نے اس حالت میں شرکت کی ہوتی تو انہیں پارلیمنٹ کے قانون کے تحت ایسا کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا تھا۔ پارلیمنٹ رولز کے تحت کوئی ڈریس کوڈ تو وضع نہیں کیا گیا ہے لیکن مردوں کے لیے اجلاس میں سوٹ اور ٹائی پہننا لازمی ہے۔
I made a really unfortunate mistake today & obviously I’m embarrassed by it. My camera was accidentally left on as I changed into work clothes after going for a jog. I sincerely apologize to all my colleagues in the House. It was an honest mistake + it won’t happen again.
— William Amos (@WillAAmos) April 14, 2021
پہلے پہل تو یہ سب آن لائن اجلاس میں موجود اراکین اسمبلی نے دیکھا۔ کینیڈا کے عوام اس بات سے بے خبر ہی رہے کہ ان کے ممبر پارلیمنٹ جس حالت میں دنیا میں آئے تھے اسی حالت میں پارلیمنٹ اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ اپوزیشن جماعت کی ممبر نے پوائنٹ آف آرڈر پر نقطہ اٹھایا کہ انہیں ہمیشہ خود کو ڈھک کر رکھنا چاہیے۔



