سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

اینٹی بائیوٹک دواؤں سے جگر متاثر ہوسکتا ہے، ماہر ڈاکٹروں کا انتباہ

خود علاجی اور اس کے نقصانات

تلنگانہ: (اردودنیا.اِن) کورونا کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں بے تحاشا اضافہ کے باعث عوام کو دواخانوں میں بستروں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بستروں کی کمی اور خانگی دواخانوں میں مہنگے علاج کے باعث کئی افراد نے گھر پر خود علاج کرنے کو ترجیح دی، جس میں از خود ادویات کا تعین اور استعمال شامل تھا۔

ماہرین کی وارننگ
ڈاکٹرز نے انتباہ دیا ہے کہ کورونا جیسے مہلک مرض میں بغیر طبی مشورے کے ادویات لینا انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر جگر پر اس کے مضر اثرات پڑ سکتے ہیں، جو کہ جسم کا ایک اہم عضو ہے۔

خود علاجی اور اس کے نقصانات
"ورلڈ لیور ڈے” کے موقع پر ماہرین صحت نے نشاندہی کی کہ بخار، کھانسی اور زکام جیسی ابتدائی علامات کے پیش نظر لوگ اپنے طور پر اینٹی بائیوٹکس استعمال کر رہے ہیں، جبکہ کورونا ایک وائرل انفیکشن ہے اور اینٹی بائیوٹک ادویات اس کے علاج میں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔

ماہرین کا مشورہ
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیماری، خاص طور پر کورونا جیسی وبا میں خود سے دوا لینے کے بجائے کسی مستند معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ سیلف میڈیکیشن اکثر فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button