
ناسک آکسیجن لیک سانحہ: 30 منٹ نہیں،بلکہ 2 گھنٹہ تک معطل رہی آکسیجن کی سپلائی،22 افراد فوت
مریض آنکھوں کے سامنے فوت ہوتے رہے ، متأثرین کے اہل خانہ کا الزام
ناسک :(اردودنیا.اِن)ملک میں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے آکسیجن بحران کے درمیان بری طرح کرونا سے متاثرہ ریاست مہاراشٹرا سے ایک انتہائی تکلیف دہ خبر موصول ہوئی ہے ۔ مہاراشٹر کے ناسک میں ڈاکٹر ذاکر حسین اسپتال کے باہر آکسیجن ٹینکر سے لیک ہونے کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوگئی۔لیک ہونے کی وجہ سے اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی 30 منٹ کے لئے معطل رہی۔ جس کے نتیجے میں وینٹی لیٹروں پررکھے گئے 22 مریضوں کی المناک موت ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق کئی لوگوں کی حالت اب بھی سنگین ہے۔
ضلع کلکٹر کے مطابق اس حادثہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہوگئی ہے۔ واضح ہو کہ پہلے مذکورہ حادثہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن فوت شدہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی خبر ہے ۔واضح ہو کہ اسپتال میں لگ بھگ171 مریضوں کو آکسیجن دی جارہی ہے، فائر بریگیڈ موقع پرپہنچ چکی ہے اور امدادی کام جاری ہے۔ مہاراشٹرا کے ایک اور وزیر اکٹر راجندر شینگنے نے اس حادثہ کے متعلق کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے ،ابتدائی اطلاع کے مطابق ہمیں 11 افراد کے موت ہونے کی خبر ملی ہے ، ہم تفصیلی رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے انکوائری کا حکم بھی دیا ہے، جو بھی اس حادثے کا ذمہ دار ہوگا ،اسے بخشا نہیں جائے گا۔
مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا کہ ٹینکر کے ’والوز‘ میں خرابی کی وجہ سے آکسیجن میں اس طرح کا تباہ کن لیک ہوگیا۔ یہ یقینی ہے کہ اس کا اثر اسپتال پر پڑے گا،لیکن ہمیں اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرناہے ۔ناسک کے ڈویژنل کمشنر رادھا کرشن گامے نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ صبح دس بجے اس وقت پیش آیا جب آکسیجن ٹینک میں خرابی پیش آئی ۔ اسپتال انتظامیہ نے کچھ مریضوں کو منتقل کیا ،لیکن پھر بھی آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے 22 مریض دم توڑ گئے۔
واقعے کے بعد مریض کے لواحقین وارڈ میں گھس کر ہنگامہ آرائی کرنے لگے ۔خیال رہے کہ مہاراشٹرا کو ملک میں کورونا کے باعث تباہ کن اثرات کا سامنا ہے۔ ہر روز کورونا وائرس کے 50 ہزار سے زیادہ نئے انفیکشن پائے جارہے ہیں ، لہٰذا سیکڑوں افراد کی زندگیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔
ناسک کے ذاکر حسین اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی نہ ہونے کے باعث بدھ کی دوپہر 24 مریض اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ابھی بھی کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آکسیجن ٹینکر میں لیکیج کو درست کرنے کی وجہ سے 30 منٹ کی سپلائی موقوف رہی ،لیکن فوت شدگان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ 30 منٹ نہیں، بلکہ 2 گھنٹے تک سپلائی بند تھی۔
#WATCH | An Oxygen tanker leaked while tankers were being filled at Dr Zakir Hussain Hospital in Nashik, Maharashtra. Officials are present at the spot, operation to contain the leak is underway. Details awaited. pic.twitter.com/zsxnJscmBp
— ANI (@ANI) April 21, 2021
ایک متأثرہ کنبہ نے بتایا کہ میری بہو میری آنکھوں کے سا منے دم توڑ گئی ، لیکن اسپتال والوں نے کچھ نہیں کیا۔حادثہ میں فوت شدہ ایک شخص کے اہل خانہ نے بتایا کہ ہم نے اپنے کنبے کے ایک اہم رکن کو کھو دیا ہے، اس کا حساب کون دے گا؟ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب اچانک آکسیجن رک گئی ،اور میرے بھائی تڑپ تڑپ کر جان گنوا بیٹھا،اسے 10 دن قبل ہی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
اس نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آکسیجن کی فراہمی محض 30منٹ موقوف رہی ، وہ جھوٹ بول رہے ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ آکسیجن2 گھنٹے تک بند رہی، آکسیجن سلنڈر نہیں تھا۔ اگر سلنڈر ہوتا تومیرے بھائی کی جان بچ سکتی تھی۔کچھ رشتہ داروں نے یہ بھی الزام لگایا کہ گذشتہ رات سے ہی اسپتال میںآکسیجن کی قلت تھی، جب آج آکسیجن کی فراہمی رک گئی ، تو ہم نے ہی ڈیوٹی پر موجود عملے کو بتایا۔ انہوں نے ہمیں چیک کرنے کے لئے نیچے بھیج دیا، جب ہم نیچے آئے ،تو ڈاکٹروں نے ہمیں دوبارہ بھیج دیا۔
ہم پورے اسپتال میں چکر لگاتے رہے ، اسی واقعہ میں ایک خاتون کی بھی موت ہوئی ہے، اس کے سسر نے بتایا کہ وہ 4 روز قبل اسپتال لایا تھا، حالت بتدریج بہتر ہورہی تھی ، لیکن آکسیجن کی فراہمی جیسے ہی رکی، اس کی طبیعت بگڑنے لگی ، اور وہ دم توڑدیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے فوت ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔
میں یہاں ، وہاں دوڑتا ، لیکن کوئی بھی مدد کے لئے آگے نہیں آیا۔اسپتال انتظامیہ بھی کوئی جواب نہیں دے سکی۔خیال رہے کہ وزیر صحت راجیش ٹوپے نے بتایا کہ اس حادثہ میں 11 خواتین اور 11 مرد فوت ہوئے ہیں ، تمام کرونا مریض تھے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
اس کے لئے ، آئی اے ایس آفیسر ، انجینئر ، ایک سینئر ڈاکٹر کی ایک ٹیم تشکیل دے کر سانحہ کی تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔واضح جو کمپنی یہاں آکسیجن بھرنے کا کام کرتی ہے، وہ جاپان کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے، اوریہاں کئی سالوں سے آکسیجن فراہم کرتی ہے ۔



