بین ریاستی خبریں

انجمن ترقی اردو ہند گلبرگہ کے اجلاسِ عام

حکومتِ کرناٹک اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے
اور اُردو اکادمی کی تشکیل جدید فوراً عمل میں لائے
انجمن ترقی اردو ہند گلبرگہ کے اجلاسِ عام کا حکومت سے مطالبہ

گلبرگہ:3/جنوری (اردودنیانیوز)انجمن ترقی اُردو ہند شاخ گلبرگہ کی مجلسِ عام کا اجلاس بتاریخ 27 ؍ڈسمبر 2020 بروز اتوار گیارہ بجے دن بہ مقام خواجہ بندہ نوازؒ ایوانِ اردو انجمن کامپلکس زیر صدارت جناب امجد جاوید صدرِ انجمن منعقد ہوا۔ اس اجلاس سے ممتاز ادیب ونقاد بانی معتمد انجمن ترقی اردو ہند گلبرگہ ڈاکٹر وہاب عندلیب نے خطاب کرتے ہوئے حالات حاضرہ کے تناظر میں کہا کہ ایسے افراد سے اجتناب ضروری ہے جنھیں اردو اور انجمن کے کاز سے زیادہ کرسی، مائک اور کیمرہ عزیز ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ اراکینِ انجمن کا فرض ہے کہ وہ متفقہ طورپر ایسے اراکین کو منتخب کریں جنھیں اردو انجمن کے کاز سے دل چپی ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ اراکین متحد ہو کے بے لوث افراد کا انتخاب کریں جن میں سینئر اراکن کے ساتھ ساتھ نئے اراکین بھی شامل ہوں۔ انھوں نے موجودہ مجلسِ عاملہ کے سرگرم اراکین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک انجمن کی سرگرمیوں کا تعلق ہے مجلسِ عاملہ کو اپنے ہی بعض اراکین سے خاطر خواہ تعاون حاصل نہ ہوسکا با وجود اس کے جو کچھ سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں وہ لائق ستائش وتحسین ہیں۔ یوں بھی انجمن کی موجودہ مجلسِ عاملہ کی معیاد ختم ہوا چاہتی ہے آئندہ انتخابات اندرون سہ ماہ منعقد ہونے چاہیے۔

صدرِ انجمن وصدرِ اجلاس جناب امجد جاوید نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج کے اجلاس عام میں موجود اراکین نے اپنی شرکت سے اجلاس کو بے حد اہم بنا دیا۔ انھوں نے اپنی سہ سالہ معیاد میں انجام پائی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا چنداراکین کے عدم تعاون کے باوجود معتمد انجمن ڈاکٹر ماجدداغی نے جو کام کیا ہے وہ لائق ستائش ہے۔ انھوں نے تمام عہدہ داران و اراکین عاملہ کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے تعاون سے بہتر کام انجام پا سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انجمن اختلافِ رائے کو مستحسن نظر سے دیکھتی ہے اختلافِ رائے کسی بھی تنظیم کے استحکام کے لئے بہت ضروری ہے ڈاکٹر رفیق رہبر کی قرأت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا۔

جناب خواجہ پاشاہ انعامدار معتمدِ تنظیمی نے ابتدائی کلمات پیش کے اور خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر محمد افتخارالدین اختر شریک معتمد نے 25 ؍ڈسمبر 2017 کو منعقدہ اجلاس عام کی روئیداد پیش کی جسکی اجلاس نے تو ثیق کی۔ ڈاکٹر ماجدداغی معتمد انجمن نے انجمن کی سہ سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی جس کی توثیق کی گئی ۔ سال 2017-18، 2018-19 اور 2019-20 کے آڈٹ کردہ حسابات جناب ولی احمد خازن انجمن نے کے توثیق کے لیے پیش کئے جسکی تمام ارکان نے توثیق کی۔ اس کے بعد جناب خواجہ پاشاہ انعامدار معتمدِ تنظیمی نے سال 2021 کے لیے بجٹ پیش کیا جسکو منظور کیا گیا۔

ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین نے حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کرناٹک بلا تاخیر اردو اکادمی کی تشکیل جدید عمل میں لائے اور اس کی سرگرمیوں کے لیے بجٹ میں اضافہ بھی کرے ۔

ڈاکٹر اسماء تبسم صاحبہ نے اپنی قرارداد میں یہ مطالبہ کیا کہ کرناٹک میں ایسے انگلش میڈیم اسکولس جہاں اردو زبانِ سوم کی حیثیت سے پڑھائی جارہی ہے ان اسکولس کے اردو ٹیچر اردو اکادمی مناسب اعزاز یہ دے (معلوم نہیں اکادمی نے یہ کیوں بند کیا)
جناب محمد صلاح الدین نے انجمن کے توسط سے حکومت کرناٹک سے مطالبہ کیا کہ وہ 1987 تا 1995 کے دوران قائم خانگی مدارس کی گرانٹ پر عائد پابندگی کو فوراً ختم کرے اور ان کی گرانٹ منظور کرے اور 1995-96 سے تا حال یعنی 2020-21 کے دوران منظورہ (پچیس سال) خانگی تعلیمی اداروں کو گرانٹ کے احکام فوری جاری کرے۔

پچیس سالوں سے حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں کی لہٰذا خانگی تعلیمی اداروں کے انتظامی کمیٹیوں کو مزید مالی بوجھ سے نجات بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر کوثر پروین صاحبہ نے ایک بہت ہی اہم قرار داد پیش کی انھوں نے حکومت کرناٹک سے پرُزور مطالبہ کیا کہ اُردو کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں بولی سمجھی اور پڑھی جانے والی زبان ہے۔ اس کا ادبی سرمایہ دنیا کے کسی بھی بڑی زبان کے ہم پلہ ہے ایسی زبان کو نظر انداز کرنا حکومت کی تنگ نظری کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ انجمن کے توسط سے حکومت کرناٹک سے بہ مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اردو کو کرناٹک کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے ۔
اس کے بعد 2018 تا 2020 سہ سالہ معیاد میں انجمن کے اراکین عاملہ اور حیاتی اراکین کے سانحہ ہائے ارتحال پر قرار دادِ تعزیت پیش کر کے انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
ڈاکٹر پیرزادہ فہیم الدین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انجمن کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انجمن کی مجلسِ عاملہ کی تشکیل جدید یا انتخابات میں اس بات کو ملحوظ رکھے کہ نئے ارکان بھی مجلسِ عاملہ میں شمولیت کا موقع ملے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انجمن آل انڈیا ریڈیو سے مطالبہ کرے کہ وہ آل انڈیا ریڈیو گلبرگہ سے روزانہ ایک گھنٹے کا اردو پروگرام پیش کیا جائے ۔

جناب قاسم شاہ پوری نے کہا کہ انجمن دوسرے اداروں کے ساتھ اشتراک سے جلسے منعقد کرنے سے پہلے مکمل اطمینان کرلے کہ وہ ادارے غیر شعوری طورپر انجمن کے خلاف جانے والے بیانات نہ دے۔ جناب محمد مجیب احمد نے کہا کہ انجمن ایک ماڈل اسکول کا قیام جلد از جلد عمل میں لائے۔ جناب اقبال احمد شرینی فروش نے بہت ہی اہم مسلہ پر ارکان کی توجہ مبذ ول کروائی

انھوں نے انجمن سے یہ کہا کہ وہ شہر کے اردو محلوں میں ریڈنگ رومس قائم کرے۔ اس ضمن میں انجمن سٹی کارپوریشن گلبرگہ سے ربط پیدا کرے اور وہاں سے ملنے والی سہولتوں استفادہ کرے اور اس اجلاس میں منظورہ قرار دادوں کو متعلقہ محکموں تک پہنچانے کو یقینی بنائے۔جناب اسد علی انصاری اور جناب نیئر خورشید نے بھی اظہار خیال کیااور اپنے زرین مشوروں سے نوازا۔جناب محمد صلاح الدین کے شکریہ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button