قومی خبریں

دہلی میں آکسیجن کی قلت : ایمس میں ایمرجنسی وارڈ میں داخلہ بند ،کئی اسپتال مریضوں کوکررہے ہیں فارغ

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن)کرونا اس وقت ہندوستان پر سایۂ عفریت بن کر مسلط ہے ۔ اسے حکمران کی نااہلی کہہ لیں، یا ملک کے لوگوں کی بدقسمتی کہ نااہل سیاستدانوں کو ووٹ دے کر سونپ دیتے ہیں ، پھر برسہا برس سیاستدانوں کے پرُجوش مذہبی ’نعرے‘ کے سہارے زندگی گزارلیتے ہیں،اور جب موت وحیات کی باری آتی ہے ، تو ’ٹھینگا‘ دکھا کرسیاستداں منھ پھیر لیتے ہیں۔

ان ہی نا اہلی کی چند تصویر دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کی ایمرجنسی نے بھی ہفتے کے روز آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نئے مریضوں کی بھرتی روک دی ہے ۔ اسی طرح کی تصویر کئی دوسرے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔کئی اسپتال میں آکسیجن ختم ہونے کے قریب ہے ۔ وہیں دہلی کے سروج سپر اسپیشلٹی اسپتال میں آکسیجن ختم ہونے پر ہے۔

ہفتہ کے روز کووڈ انچارج نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک بیک اپ آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ ہمارے پاس 70 مریض ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس آکسیجن کی فراہمی نہیں ہوئی، تو پھر ایک اور تباہی پیش آسکتی ہے، ہم نے مریضوں کو اسپتال سے فارغ کرنا شروع کردیا ہے ،اور آکسیجن کی قلت کے باعث نئے مریضوں کی بھرتی بھی بند کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آکسیجن کے بغیر مریضوں کا کیسے علاج کرسکتے ہیں۔

وہیں پریت وہار کے میٹرو اسپتال میںبھی مریضوں کو چھٹی دینے کو کہا جا رہا ہے ، یہاں بھی آکسیجن ختم ہونے کے قریب ہے ۔بترا اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سودھانشو نے بتایا کہ ہمارے ہسپتال میں دوپہر 2 بجے تک آکسیجن مکمل طور پر ختم ہوجائے گی،ہمیں کوئی امید نظر نہیں آتی، کیونکہ پائپ لائن میں آکسیجن کی فراہمی نہیں ہے، ہم اس مشکل وقت میں اپنے مریضوں کے لئے صرف ’ پرارتھنا‘ کرسکتے ہیں۔

دہلی سرکار کے لوک نائک جے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سریش کمار نے ہفتے کے روز بتایا کہ ہمارے اسپتال میں تمام آئی سی یو بیڈ پچھلے 4-5 دن سے بھرا ہوا ہے۔ آکسیجن کی سطح کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ سنجیدہ مریضوں کو فی منٹ 40-50 لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہورہی ہیں۔

وہیں دہلی کے سر گنگارام اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر ڈی ایس رانا نے آکسیجن بحران کے حوالے سے آج کہا کہ حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے ، لیکن شاید حکومت بھی بے بس ہے۔ مرکز اور ریاست سے مدد کی اپیل ہے۔ کووڈ بیڈ میں اضافہ کیا گیا ہے ، لیکن آکسیجن کافی نہیں ہے، ہم کیسے کام کریں گے۔ دریں اثنا دہلی ہائی کورٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر مرکز، ریاست یا مقامی انتظامیہ میں کوئی آفیسر آکسیجن کی فراہمی میں خلل ڈالتاہے،تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے ، اسے تختۂ دار پر لٹکائیں گے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button