بین ریاستی خبریںقومی خبریں

آکسیجن سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کو’ہم لٹکادیں گے‘: ہائی کورٹ

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)دہلی ہائی کورٹ نے ہفتہ کے روز کہا کہ اگر مرکز، ریاست یا مقامی انتظامیہ کا کوئی بھی افسر آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے تو ہم اس شخص کو لٹکادیں گے۔مذکورہ بالا تبصرہ مہاراجہ اگرسن اسپتال کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس ریکھا پلی کی بنچ کی طرف سے آئے۔ کورونا مریضوں کو آکسیجن کی کمی کے حوالے سے اسپتال نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔عدالت نے دہلی حکومت سے کہا کہ وہ بتائے کہ کون آکسیجن کی فراہمی میں خلل ڈال رہا ہے ۔

بنچ نے کہاکہ ہم اس شخص کو لٹکادیں گے۔ ہم کسی کو نہیں بخشیں گے۔عدالت نے دہلی حکومت سے کہا کہ وہ مقامی انتظامیہ کے ایسے افسران کے بارے میں بھی مرکز کو آگاہ کرے تاکہ وہ ان کے خلاف کارروائی کر سکے۔ہائی کورٹ نے مرکز سے بھی سوال کیا کہ آپ نے یقین دہانی کرائی تھی تو دہلی کو 480 میٹرک ٹن روزانہ آکسیجن کب ملے گی ۔عدالت نے مرکز سے کہاکہ آپ نے ہمیں 21 اپریل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ روزانہ 480 میٹرک ٹن آکسیجن دہلی میں پہنچایا جائے گا ، تو ہمیں بتائیں کہ یہ کب ملے گی؟

دہلی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسے گذشتہ کچھ دنوں سے روزانہ صرف 380 میٹرک ٹن آکسیجن مل رہی ہے اور جمعہ کے روز اسے تقریبا 300 میٹرک ٹن آکسیجن ملی تھی ۔ اس کے بعد عدالت نے مرکز سے سوال کیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button