سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

کورونا مریضوں کے دماغ کی رگیں بھی متاثر ہونے کا انکشاف

اسٹروک والے مریضوں کو چوکنا رہنے کا مشورہ، ڈاکٹر پی رنگانادھم

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)کورونا وائرس کی ابتداء میں ماہر اطباء اور سائنسدانوں نے مرض کے سبب ہونے والے بنیادی مسائل کے سلسلہ میں تحقیق کا عمل شروع کیا اوریہ کہا جا تا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے پھیپڑے متاثر ہورہے ہیں اور انہیں سانس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پہلی لہر کے دوران کی جانے والی تحقیق کے دوران ہی اس بات کا انکشاف ہوا کہ کورونا وائر س کے متاثرین کے اعضائے رئیسہ متاثر ہونے لگے ہیں اور وائرس کے جسم میں ہونے کے دوران خون گاڑھا ہونے کی شکایات پیدا ہونے لگی ہیں۔

ڈاکٹر پی رنگا نادھم سینیئر کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ سن شائن ہاسپٹل نے بتایا کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی دماغ کی رگیں بھی متاثر ہونے لگی ہیں اور اس سلسلہ میں متعدد تحقیق منظر عام پر آچکی ہیں اسی لئے جو لوگ دماغ کے امراض میں مبتلاء ہیں یا جنہیں اسٹروک آچکا ہے انہیں کورونا وائرس کے اس دور میں چوکنا رہنے کے علاوہ مستعد و مستحکم رہنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر پی رنگانادھم نے بتایا کہ ہندستان کے علاوہ دنیاکے کئی ممالک میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضو ں کی صحت کی مسلسل نگرانی کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ مختلف امراض بالخصوص نفسیاتی امراض کے علاوہ دماغ کی شریانوں سے متعلق امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے پھیپڑوں کے ساتھ دیگر اعضائے رئیسہ جو متاثر ہونے لگے ہیں ان میں دماغ بھی شامل ہے اور شریانوں کو متاثر ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ ماہر نیورولوجسٹ نے بتایا کہ گذشتہ ایک برس کے دورا ن کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی ایسے مریض پائے گئے ہیں جو کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد دماغ سے متعلق امراض کا شکار ہوئے ہیں

لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی جو کہ سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے اسی لئے اگر کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد غنودگی ‘ چکر یا آنکھوں کے آگے اندھیرے جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں اور جسم کی ایک جانب کمزوری اور رعشہ محسوس ہوتا ہے تو فوری مریض کو ماہر امراض اعصاب سے رجوع کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر پی رنگا نادھم نے بتایا کہ دماغ کے اسٹروک کی صورت میں اگر فوری حرکت میں آتے ہوئے علاج کا آغاز کیا جاتا ہے تو مستقل اپاہج ہونے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اسی لئے کورونا وائرس کے شکار مریضوں کو اپنی مکمل صحت پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی علامات میں کئی علامات کا تعلق دماغ اور اعصاب سے ہے جن میں ذائقہ کا محسوس نہ ہونا‘ سونگھنے کی صلاحیت سے محرومی ‘ چکر ‘ سر درد‘ کے علاو دیگر علامات شامل ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ سونگھنے کی صلاحیت سے محرو م ہونے والے کورونا وائرس کے مریضوں کو وائرس کے ختم ہونے سے قبل بدترین بدبودار احساس پیدا ہونے لگتا ہے اور کورونا وائرس کے متاثرین جو سونگھنے اور ذائقہ کی صلاحیت سے محرو م ہورہے ہیں ان کے ذائقہ اور سونگھنے کی صلاحیت واپس آنے میں 2 ہفتہ یا 4 ہفتہ تک کا وقت لگ رہا ہے۔

ڈاکٹر پی رنگانادھم نے معمربزرگ شہریوں اور نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ وباء کے اس دور میں خوف و دہشت کا شکار ہونے کے بجائے خود کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے افراد خاندان کی حفاظت پر توجہ دیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ماسک کا استعمال کرنے کے علاوہ وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی صحت میں ہونے والی تمام تر تبدیلیوں پر خصوصی توجہ دیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button