بین الاقوامی خبریں

انڈونیشیا کی بحری آبدوز عملے کے 53 افراد سمیت ڈوب گئی،لاپتہ آبدوز کے عملے کو مردہ قرار دے دیا گیا

جکارتہ :(ایجنسیاں)انڈویشیا کی بحریہ کی لاپتہ ہونے والی آبدوز ، جس پر عملے کے 53 افراد سوار تھے، بالی کے جزیرے میں ڈوب گئی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے انڈونیشیا کے نیول چیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ لاپتہ ہونے والی آبدوز کا ملبہ سمندر میں 850 میٹرز کی گہرائی میں پایا گیا ہے جب کہ بحری جہاز کچھ باقیات مل گئی ہیں جس کے بعد آبدوز کے 53 اہلکاروں کے زندہ ملنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔بحری آبدوز میں صرف تین دن کی آکسیجن موجود تھی۔ جرمن ساختہ بحری جہاز 40 سال پرانا تھا لیکن 2012 میں اس کی دوبارہ سے مرمت کی گئی تھی۔
انڈونیشیائی حکام کے مطابق آبدوز میں صرف چند گھنٹے کی آکسیجن باقی رہ گئی ہے۔
انڈونیشین نیول چیف یوڈو مارگونو کا کہان ہے کہ ہمیں آبدوز کے کئی ٹکڑے اور حصے ملے ہیں اور وہ سب میرین کے ساتھ جڑے ہوئے تھے جو جہاز سے الگ ہوگئے ہیں۔انڈونیشیا نیوی کے مطابق اتنی گہرائی میں ڈوبنے کی وجہ سے عملے کے 53 ارکان کے زندہ بچ جانے کے امکانات بھی ختم ہوگئے ہیں۔ سرچ آپریشن جاری رکھنے اور ملبے کو نکالنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے

انڈونیشیا کی لاپتا آبدوز کے ملنے کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ حکام کی جانب سے تمام لاپتا عملے کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

 انڈونیشیا کی فوج کے سربراہ ہادی تجاجانتو نے بتایا کہ 21 اپریل کو علی الصبح نانگگلا 402 نامی آبدوز تربیتی مشق کے دوران لاپتا ہوگئی تھی۔ انڈونیشن نیوی کا کہنا ہے کہ گمان ہے کہ آبدوز میں سوار تمام 53 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو مشن اب فیز سب مس سے فیز سب سنک کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یاد رہے کہ لاپتا آبدوز کی تلاش کی کارروائیوں میں21 بحری جنگی جہاز، 3 آبدوزیں، جب کہ 5 طیارے اور ہیلی کاپٹرز حصہ لے رہے ہیں۔آبدوز کی گمشدگی کا علم اس وقت ہوا جب عملے کی جانب سے شیڈول کے مطابق رپورٹ نہیں کیا گیا۔ آبدوز بالی کے شمال میں 60 میل دور گہرے سمندر میں کہیں غائب ہوئی۔
انڈونیشین میڈیا کے مطابق بحریہ کا ماننا ہے کہ آبدوز 700 میٹر گہرائی میں ڈوب گئی ہے۔ انڈونیشین بحریہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ غوطہ لگانے کے بعد بلیک آؤٹ سے کنٹرول ختم ہوگیا ہو اور ایمرجنسی اقدامات پر عمل کرنا ممکن نہ رہا جس کے باعث آبدوز 600 سے 700 میٹر گہرائی میں پہنچ گئی ہو۔
سنگاپور، ملائیشیا اور بھارت نے آبدوز ریسکیو شپس بھی مدد کیلئے بھیجے ہیں، جب کہ امریکا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی آبدوز کی تلاش میں مدد فراہم کررہے ہیں۔ انڈونیشن آبدوز بدھ کو مشقوں کے دوران لاپتہ ہوئی تھی۔سمندر کی سطح پر تیل کی موجودگی سے عندیہ ملتا ہے کہ آبدوز کے ایندھن کے ٹینک کو نقصان پہنچا یا یہ عملے کی جانب سے سگنل بھی ہوسکتا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق آبدوز میں 49 کریو ممبرز، کمانڈر اور 3 گنر موجود تھے۔
جرمن ساختہ آبدوز انڈونیشیا میں 1981 سے کام کررہی تھی اور 22 اپریل کو اس نے میزائل فائرنگ کی مشق میں حصہ لینا تھا۔ انڈونیشین بحریہ کے پاس اس وقت 5 آبدوزیں ہیں اور وہ اس تعداد کو 2024 تک 8 بڑھانا چاہتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button