قومی خبریں

سری نگر میں دفعہ 144 نافذ، وقف بورڈ نے گھروں میں نماز پڑھنے کی اپیل کی، متعدد مساجد بند

سری نگر:(اردودنیا.اِن)کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھی صورتحال خوفناک ہوتی جارہی ہے، جہاں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کی وجہ سے 45 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سری نگر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1144 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سری نگر کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت سری نگر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، اب ایک جگہ پر پانچ یا زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔سری نگر کے ڈپٹی کمشنر اعجاز اسد کے مطابق ریکارڈ کورونا انفیکشن معاملات کے بعد انتظامیہ نے جان بچانے اور انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد بدھ سے متعدد بازار اور مال بند کردئے گئے ہیں اور قواعد توڑنے والوں پر جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں۔

دفعہ 144 نافذ کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر وقف بورڈ نے عام لوگوں سے مساجد، خانقاہ اور مزار بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ جموں وکشمیر وقف بورڈ کے چیئرمین مفتی فرید نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے لوگوں کو گھر پر نمازپڑنے کی اپیل کی ہے۔جموں وکشمیر میں کورونا کی دوسری لہر پھیل رہی ہے اور مارچ کے آخر میں کورونا مریضوں کی تعداد 600 سے بڑھ کر 20 ہزار ہوگئی ہے۔

اپریل کے مہینے میں، انفیکشن میں 700 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق جموں وکشمیر میں ابھی تک انفیکشن عروج پر نہیں آیا ہے۔ 2212 افراد کورونا انفیکشن کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button