
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ کو بدھ کے روز بتایا گیا کہ مرکز پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر پابندی عائد کرنے کے عمل میں ہے اور متعدد ریاستوں میں اس اسلامی تنظیم پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اترپردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ کیرل سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن کا تعلق پی ایف آئی سے ہے اور پی ایف آئی کے عہدیداروں کو کالعدم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سمی) سے وابستہ پایا گیا ہے۔
چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ نے مہتا سے سوال کیا کہ کیا پی ایف آئی پر پابندی لگائی گئی ہے؟۔اس کے جواب میں مہتا نے کہاکہ کئی ریاستوں میں پی ایف آئی پر پابندی ہے۔ میری معلومات کے مطابق مرکز اس پر پابندی عائد کرنے کے عمل میں بھی ہے۔اس پر بنچ نے کہاکہ ابھی اس پر پابندی عائد نہیں ہے۔بعدازاں سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ پچھلے سال گرفتار کیے گئے کپپن کو بہتر علاج کے لئے دہلی منتقل کیا جائے۔کپن کو ہاتھرس کے راستے میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں گذشتہ سال 14 ستمبر کو اجتماعی عصمت دری کے بعد ایک دلت لڑکی کی موت ہوگئی تھی۔بنچ نے کہا کہ کیپن کو صحت یاب ہونے کے بعد متھرا جیل بھیج دیا جائے گا۔



