ممبئی:5/جنوری(ایجنسیز) اترپردیش کے ماوی میراگاؤں میں آبادمسلم طبقہ نے گوجرنامی ہندوطبقہ کے لوگوں کے ذریعہ ستائے جانے اورپریشان کئے جانے کی شکایت کی ہے۔محمدطاہر شبیرنے سوشل میڈیاپروائرل ا پنی رپورٹ میں بتایاکہ گاؤں میں سگریٹ کی دکان پر۲۳؍دسمبرکوسندرسنگھ نامی ایک شخص دکان مالک محمدطیب کی ضمانت پرادھارسگریٹ خریدا۔کچھ دنوں بعدادھارقیمت جوصرف ۲۰؍روپیہ تھی،واپس مانگنے پر سندرسنگھ اوراسکےساتھیوں نے جھگڑناشروع کردیا۔
معاملہ کوطول دیتے ہوئے متاثرہ مسلم افرادکے ساتھ شرپسندوں نے ہاتھاپائی کی،بلکہ انکے مکانوں پرگولیاں بھی چلائیں۔گاؤں کے عزت دارافرادنے جب پولس میں شکایت کی،الٹ پولس نے ان پردباؤ ڈالاکہ وہ معاملہ کوآپس میں نپٹالیں۔متاثرہ مسلم طبقہ کاکہناہے کہ حملہ آورآزادگھوم رہے ہیں اورانہیں اتناپریشان کررہے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے گھروں کے باہرفروخت کانوٹس لگادیاہے اورگاؤں چھوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔
مزیدتفصیلات کے مطابق گوجرطبقہ نے برعکس اسکے مسلمانوں کوجھوٹاقراردیتے ہوئے مکانات فروخت کرنے اورگاؤں چھوڑنے کی دھمکی کوسیاست بازی قراردیاہے۔