
تلنگانہ کی خبریں
دفاتر سب رجسٹرار میں ڈاکومنٹ رائیٹرس کا غلبہ درمیانی آدمی کا رول، رجسٹریشن کروانے کیلئے بھاری رقم کا مطالبہ
تلنگانہ:(ایجنسیاں)غیر لائسنس یافتہ ڈاکومنٹ رائٹرس دفاتر سب رجسٹرار میں درمیانی آدمیوں کے طور پر کام کررہے ہیں اور ان دفاتر میں گویا ان کا غلبہ ہے اور وہ کسی سوالات کے بغیر دستاویزات کا رجسٹریشن کرواتے ہیں۔ ظاہر ہے اس میں ان کا مفاد ہوتا ہے۔ دراصل ریاستی حکومت کا ان غیر لائسنس یافتہ ڈاکومنٹ رائٹرس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کورونا وباء سے پہلے یہ رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں یا چارم کے مدھوکر ریڈی نے ایک ریئل اسٹیٹ وینچر میں 300 مربع گز کا پلاٹ خریدا ۔ جائیداد کے گورنمنٹ ویلیویشن کے مطابق رجسٹریشن فیس 1.20 لاکھ روپے مقرر تھی۔
اس پلاٹ کا رجسٹریشن کروانے کے لئے انہوں نے 8,800 روپے اسٹامپ ڈیوٹی، ٹرانسفر ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور یوزر چارجس کے لئے ادا کئے اور ڈاکومنٹ رائٹرس یہ کام کروانے کے لئے کوئی رشوت کا مطالبہ نہیں کرتے تھے تاہم کووڈ کے بعد وہ رجسٹریشن کروائی جانے والی جائیداد کی قدر کا کچھ فیصد ان کی فیس کے طور پر طلب کررہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں دفاتر سب رجسٹرار میں انہیں بعض لوگوں اس کام کے سلسلہ میں رقم دینی پڑتی ہے۔ ڈاکومنٹ رائٹر کو بطور رشوت 4000 روپے ادا کئے۔
یہ رقم دستاویز کی تیاری اور سب رجسٹرار آفس میں کسی تاخیر اور مسائل کے بغیر کام کروانے کے لئے ادا کئی گئی۔ اگر انہیں مطلوبہ رقم ادا نہیں کی گئی تو رجسٹریشن میں کسی نہ کسی مسئلہ کی وجہ تاخیر ہوگی۔ بعض اوقات رجسٹریشن کا عمل رک بھی جائے گا۔ یہ الزامات بھی ہیں کہ اس میں سب رجسٹرار آفس کا اسٹاف ملوث ہوتا ہے۔ سب رجسٹرار آفس میں دستاویز کا رجسٹریشن کیا جاتا ہے جبکہ مابقی 90 فیصد کام ڈاکومنٹ رائٹر کے آفس میں ہوتا ہے جو سب رجسٹرار آفس کے قریب ہوتا ہے۔ ڈاکومنٹ رائٹر جب سب رجسٹرار آفس میں داخل ہوتا ہے تو ہر کام جلد ہو جاتا ہے۔
حالانکہ سب رجسٹرار کے دفتر میں سوائے خریدار، فروخت کنندہ اور گواہوں کے کسی باہر کے افراد کو آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے لیکن سب رجسٹرار افس میں درمیانی آدمیوں کی سرگرمیاں دفتر کے اسٹاف کے مقابل زیادہ ہوتی ہیں۔ ڈاکومنٹ رائٹرس کے پاس کوئی لائسنس نہیں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کا ڈاکومنٹ رائٹر سسٹم پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ 141 دفاتر سب رجسٹرار کے دائرہ کار میں 2000 سے زائد ڈاکومنٹ رائٹرس کام کررہے ہیں۔
کووڈ ۔ 19 وباء کے بعد تو ڈاکومنٹ رائٹرس دستاویزات کا رجسٹریشن کروانے کے لئے رقم کا مطالبہ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کررہے ہیں۔ پہلے وہ کوئی مطالبہ نہیں کرتے تھے اور وہ کام کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے چارجس وصول کیا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ جائیداد کی قدر کا کچھ فیصد انہیں دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہیکہ اگر ڈاکومنٹ رائٹرس کی مدد سے رجسٹریشن کروایا جائے تو کام بہت آسانی کے ساتھ اور جلد ہو جاتا ہے ورنہ پارٹیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جائیداد کا رجسٹریشن کروانے والے افراد کا کہنا ہیکہ اگر وہ ڈاکومنٹ رائٹرس کے ذریعہ رجسٹریشن نہیں کرواتے ہیں تو سب رجسٹرار افس کا اسٹاف انہیں دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ڈاکومنٹ رائٹرس کھلے طور پر یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ جو رقم وصول کرتے ہیں اس میں سے وہ سب رجسٹرار کے دفتر کے ملازمین کو بھی دیتے ہیں۔



