نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرونا دور میں ہیلتھ انشورنس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں، لوگ زیادہ سے زیادہ اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انشورنس کمپنیاں صارفین کو خوش کرنے کے لئے طرح طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ صارف پالیسی لینے سے پہلے کچھ اہم چیزوں کو ذہن میں رکھے، تب ہی کچھ فیصلہ لے۔
کسی پالیسی کی تحقیقات کئے بغیر اس کی خریداری خطرناک ہوسکتی ہے۔ اسی دوران ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2020 میں صحت انشورنس کے پریمیم میں 4074.8 کروڑ روپے کی اچھال ریکارڈکی گئی۔ اسی دوران لوگوں نے جون-جولائی کے مہینے میں ’گوگل ہیلتھ انشورنس‘ اور ’ہیلتھ انشورنس‘ کے بارے میں بہت سرچ کیا۔
ٹاٹا اے آئی جی کے ذریعہ شروع کردہ جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم کورونا وائرس سے لڑنے والے افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مریض کے ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ٹاٹا اے آئی جی بستر ، آئی سی یو کے اخراجات، ادویات وغیرہ ہر چیز کا کور کرتا ہے۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق نئی پالیسی رکھنے والوں کے پاس صحت بشمول کووڈ19 انشورنس کے تمام دعووں کیلئے 30 دن ہیں ۔ اگر آپ ٹاٹا اے آئی جی ہیلتھ انشورنس اسکیم کا انتخاب کرتے ہیں تو 30 دن کے بعد کسی بھی وقت بدقسمتی سے کوئی بیماری ہوتی ہے تو آپ کے دعوے اس اسکیم کے تحت آئیں گے۔



