بین ریاستی خبریں

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: مراٹھا ریزرویشن کوغیر آئینی قرار دیا

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے مراٹھا برادری کو ریزرویشن کی آئینی تحفظ پر بدھ کے روز فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا میں مراٹھا برادری کے ریزرویشن کو غیر آئینی قرار دیا۔ 50 فیصد ریزرویشن کی حد مقرر کرنے والے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مراٹھا ریزرویشن 50 فیصد کی حد کی خلاف ورزی ہے۔
مراٹھا ریزرویشن دیتے وقت 50 فیصد ریزرویشن کی حد کو عبور کرنے کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔ معاشی اور معاشرتی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ پی جی میڈیکل کورسز میں ہونے والے داخلے جاری رہیں گے۔ گزشتہ تمام تقرریوں میں بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سپریم کورٹ کے پانچ ججوں جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس ایل ناگیشورا راؤ ، جسٹس ایس عبدالنظیر ، جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس ایس رویندر بھٹ کی آئین بنچ نے فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ 26 مارچ کو مراٹھا ریزرویشن کے خلاف دائر درخواست پر 10 روزہ میراتھن سماعت کے بعد فیصلہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کی جانچ کرے گی کہ ریاستیں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن دے سکتی ہیں یا نہیں۔
کیا 1992 میں دیئے گئے اندرا ساہنی فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا اندرا ساہنی جج کو بڑی بینچ میں بھیجنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اندرا ساہنی فیصلے میں ریزرویشن کے لئے 50 فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button