بین ریاستی خبریں
کورونا کے علاج کے شدید مضر اثرات: کورونا متاثرہ ذیابیطس مریضوں کو علاج کے دوران فنگس انفیکشن ، بینائی اور جان بھی گئی
جے پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کورونا متاثرہ ذیابیطس کے مریض علاج کے دوران ایک دوسری پریشانی کے شکار ہوئے ، جس سے ان کی بینائی بھی ختم ہوگئی۔جے پور میں 15 دن کے اندراس طرح کے 52 کیسز سامنے آئے ہیں ہیں ، جس میں ذیابیطس سے متاثرہ کرونا مریض کی بینائی ختم ہوگئی ہے، یہ سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار ہیں۔ وہیں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ جے پور میں اس طرح کے کیسز کی تعداد 200 سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
حالیہ معاملات میں مریضوں کو کورونا کے بعد’ میوکور مائی کوسس ‘ نامی بیماری پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں اس کی نگاہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔جب اس سلسلے میں ماہرین سے بات کی گئی ، ذیل میں ان کے جوابات کی تلخیص پیش ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا ہے کہ ’یہ کیا ہے؟ ‘ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا آنکھ کی نسوں کے قریب فنگلس جمع ہوتا ہے ، جو سینٹرل رٹائینل آٹری کے خون کے بہاؤ کو روک دیتا ہے۔ اس سے بینائی ہمیشہ کے لئے چلتی رہتی ہے۔یہ مرض کیوں ہوتا ہے ؟
اس کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا میں اسٹیرائڈز قوت مدافعت کو اوربھی کمزور کردیتی ہے ۔ ایسی صورتحال میں ادویات کا سائڈ ایفیکٹ شروع ہوجاتا ہے اور اس شخص کو’ میوکور مائی کوسس ‘ ہوجاتا ہے۔اس کی کیا علامات ہیں؟ اس کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی علامات میں ناک خشک ہوجاتی ہے، ناک کے اندورنی حصہ میں خشکی آجاتی ہے، وہ شل ہوجاتا ہے ، چہرے اورتلوے کی جلد بھی شل ہو جاتی ہے، چہرے پر سوجن آجاتی ہے۔
دانت ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اس فنگس اور انفیکشن کی روک تھام کے لئے صرف انجکشن لائی پو سومل امفوٹوریسین ہے، اس کی قیمت 5 ہزار روپے ہے۔یہ 6انجکشن مریض کو لگتے ہیں ۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ کم سے کم چار پانچ دن میں ذیابیطس مریضوں کی صورتحال کی کیفیت کے مطابق مناسب طریقہ سے اسٹرائیڈ دینے چاہیے ، ابتدائی علامات عام ہیں ، اس پر عمومی طورپر توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔



