تلنگانہ کی خبریں

خانگی دواخانہ میں شریک ہونا ہے ‘ اپنا آکسیجن ساتھ لائیں

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)خانگی دواخانوں میں آکسیجن ساتھ لانے پر ہی مریض کو شریک کیا جائے گا اور جو مریض آکسیجن ساتھ نہیں لائیں گے انہیں شریک نہیں کیاجاسکے گا۔ دونوں شہروں میں کئی دواخانوں میں آکسیجن کی قلت کی بنیاد پر مریضوں کو شریک کرنے سے انکار کیا جا رہاہے ۔ کہاجا رہاہے کہ ان کے پاس آکسیجن بستر ہیں لیکن آکسیجن نہ ہونے سے وہ مریضوں کو شریک کرنے سے قاصر ہیں۔

پرانے شہر میں ایک خانگی دواخانہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ ان کے پاس نہ صرف آکسیجن بیڈ ہیں بلکہ این آئی وی اور وینٹیلیٹر بیڈس بھی ہیں لیکن جب مریض وینٹیلیٹر یا این آئی پر ہوتا ہے تو اسے زیادہ آکسیجن درکار ہوتی ہے اسی لئے آکسیجن بیڈ پر مریض کو آکسیجن کی فراہمی ممکن نہیں ہورہی ہے کیونکہ بسا اوقات وینٹیلیٹر پر مریض کو 100 لیٹر تک آکسیجن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور این آئی وی یا بائی پائپ پر 30تا40لیٹر آکسیجن کا استعمال ہوتا ہے اس صورتحال میں آکسیجن کے سہارے مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے سے زیادہ اہمیت ان کی ہوتی ہے جو وینٹیلیٹر یا این آئی وی پر ہوتے ہیں۔

اسی طرح نئے شہر میں ایک دواخانہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ دواخانہ میں آکسیجن بستر اور ڈاکٹرس ہیں لیکن آکسیجن کی قلت کے سبب وہ مریضوں کو شریک کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔عام دنوں میں جتنی طلب آکسیجن کی ہوتی ہے اس سے 50 گنا زیادہ طلب ہونے لگی ہے اور اس کی بنیادی وجہ تمام وینٹیلیٹر بیڈس پرمریضوں کی موجودگی ہے ۔

حکومت کی جانب سے آکسیجن کی عدم قلت کے دعوؤں کی دواخانہ انتظامیہ سے تردید کی جا رہی ہے اوریہ دلیل دی جار ہی ہے کہ جب آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا تو اس کو پورا کرنے کی بجائے یہ کہا جانا کہ سابق میں جتنی ضرورت ہوا کرتی تھی وہ پوری ہورہی ہے یہ درست نہیں ہے۔ڈاکٹر جو کورونا مریضوں کا علاج کرر ہے ہیں نے بتایا کہ تلنگانہ بالخصوص شہر میں آکسیجن کی قلت کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور قلت کی وجوہات میں اہم وجہ وینٹیلیٹرس کا زیادہ استعمال ہے اور وینٹیلیٹرس پر موجود مریضوں کی جان بچانے لازمی ہے کہ انہیں درکار آکسیجن فراہم کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button