اداکار راہل وہرا کی کرونا سے موت ، فیس بک پر لکھا آخری پوسٹ اگر بہتر علاج دستیاب ہوتا ، تو میں بھی بچ جاتا : راہل وہرا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)’اگر میرا اچھا علاج ہوتا ،تو میں بچ جاتا‘‘،اداکار راہل وہرا کچھ ایسا ہی کہہ کر فوت ہوگئے ، ان کے اس آخری پوسٹ سے طبی نظم و نسق کے دعوؤں کی پول کھلتی ہے ۔ خیال رہے کہ راہل کرونا سے متأثر تھے ۔انہوں نے اپنی موت سے قبل ہی خدشہ ظاہر کردیا تھا کہ وہ جلد ہی مر جائیں گے ۔انہوں نے اپنے پوسٹ میں اپنی جنگ میں ہارتسلیم کرلینے کی بات بھی کہی۔راہل کی اس آخری پوسٹ کو دیکھ کر مداح کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
Mujhe bhi treatment acha mil jata,
To main bhi bach jata tumhaara Irahul VohraName-Rahul Vohra
Age -35
Hospital name…Posted by Irahul Vohra on Saturday, 8 May 2021
انہوں نے اپنے فیس بک پوسٹ میں بتایا ہے کہ کس طرح بہتر علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہمت ہار گیا ہے، اور بے بسی میں اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ راہل کی موت کے بعد معروف فلمساز نے بھی ان کے پوسٹ کو شیئر کیا ہے اور ان کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کا ذکر کیا ہے۔نامور ہدایت کار اور ڈرامہ نگار اروند گور نے اتوار کے روز اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر راہل وہرا کی موت کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا ہے کہ راہل وہرا چلا گیا ہے، میرا ذہین اداکار اب کوئی نہیں رہا، کل راہول نے کہا تھا کہ اگر بہتر علاج دستیاب ہوتا ، تو میں بچ جاتا۔خیال رہے کہ گذشتہ شام انہیں راجیو گاندھی اسپتال سے آیوشمان دوارکا منتقل کیا گیا تھا، لیکن راہل ہم سب بچا نہیں سکے ۔اس سے قبل ہفتے کے روز راہل نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ وہ تکلیف اٹھا رہے ہیں۔
راہول نے اپنی آخری پوسٹ میں لکھا تھاکہ اگر مجھے بہتر علاج دستیاب ہوتا تو میں بچ جاتا،میں جلدہی جنم لوں گا اور اچھا کام کروں گا، اب میں ہمت ہار گیا ہوں۔واضح ہو کہ اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والے راہل وہرا سوشل میڈیا پر موٹی ویشنل ویڈیوز سے مشہور تھے ۔ انہیں نیٹ فلکس کی اوریجنل فلم ’ان فریڈیم ‘میں نظر آچکے ہیں ،انہیں پچھلے ہفتے کورونا سے متاثر پایا گیا تھا ،جس کے بعد وہ مسلسل سوشل میڈیا پر اپنی صحت سے متعلق جانکاریاں دے رہے تھے ۔



