
حالیہ عرصہ میں فوت ہونے والے افراد کے اہل خانہ توجہ دیں،مرکزی اسکیمات کے تحت متوفی افراد کے خاندان 2 لاکھ روپئے انشورنس کے مستحق
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وباء اور لاک ڈاؤن نے غریب اور متوسط طبقات کی معیشت کو تباہ کردیا ہے اور لوگ ایک طرف علاج کیلئے بھاری رقم ادا کرنے سے قاصر ہیں تو دوسری طرف روز مرہ کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اہل خیر حضرات کی امداد کے منتظر ہیں۔ کورونا نے ہر گھر میں کچھ اس طرح سے قہر برپا کیا ہے کہ علاج کیلئے دولتمند بھی پریشان ہیں۔ غریب تو سرکاری دواخانوں کا رخ کررہے ہیں لیکن وہاں بھی انہیں باہر سے ادویات لانے کی ہدایت دی جارہی ہے۔
معاشی پریشانی کی موجودہ صورتحال میں مرکزی حکومت کی 2 مختلف بیمہ اسکیمات کے تحت فی کس 2 لاکھ روپئے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ کورونا یا کسی اور وجہ کے تحت انتقال کرجانے والے افراد کے نام پر یہ انشورنس کی رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر اقلیتیں اس طرح کی اسکیمات سے لاعلم ہیں اور موجودہ حالات میں اگر وہ بینکوں سے رجوع ہوکر انشورنس دعوی کریں تو انہیں دو لاکھ روپئے حاصل ہوسکتے ہیں۔
موجودہ پریشانی کی صورتحال میں کسی بھی خاندان کیلئے 2 لاکھ روپئے کی رقم کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اس سہولت سے استفادہ کریں اور سماجی تنظیمیں اس سلسلہ میں رہنمائی کریں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی دو اسکیمات ایسی ہیں جس کے تحت فوت ہونے پر 2 لاکھ روپئے انشورنس ادا کیا جاتا ہے۔ پردھان منتری جیون جوتی بیمہ یوجنا کے تحت 330 روپئے اور پردھان منتری سرکھشا بیمہ یوجنا کے تحت 12 روپئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرنے کی ضرورت ہے اور فوت ہونے پر اکاؤنٹ ہولڈر کو انشورنس کے طور پر دو لاکھ روپئے ادا کئے جاسکتے ہیں۔
ایسے خاندان جن میں کسی کی کورونا یا پھر کسی اور عارضہ سے موت واقع ہوچکی ہے اور انہوں نے مذکورہ اسکیمات سے کسی ایک کے تحت بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کی ہے تو ان کے رشتہ داروں کو بینک سے رجوع ہوکر معلومات حاصل کرنی چاہیئے۔ بینک سے یکم اپریل تا 31 مئی کا اسٹیٹمنٹ حاصل کیا جائے یا پھر پاس بک میں اس مدت کی انٹریز درج کرائی جائیں ۔ بینک اسٹیٹمنٹ یا انٹری میں اگر کہیں بھی 12 روپئے یا 330 روپئے کی ادائیگی درج ہو تو پھر افراد خاندان بینک سے رجوع ہوکر انشورنس کے دو لاکھ روپئے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔
مرکزی حکومت نے سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرس کیلئے 2015 میں دو علحدہ انشورنس اسکیمات کا اعلان کیا تھا۔ یہ اسکیم تمام بینکوں میں قابل عمل ہے۔ اسکیم سے استفادہ کرنے والا ہر شخص انشورنس کا فارم پُر کرنا لازمی تھا لہذا ہر شخص کا فارم بینک کے ریکارڈ میں موجود ہوگا۔ موجودہ حالات میں جبکہ ہر خاندان معاشی طور پر مشکلات سے دوچار ہے مرکز کی دونوں اسکیمات میں شامل افراد جن کی موت واقع ہوچکی ہے ان کے افراد خاندان بینک سے دو لاکھ انشورنس کا دعویٰ حاصل کرسکتے ہیں۔
رضاکارانہ تنظیموں کو چاہیئے کہ انشورنس کی رقم کے حصول کیلئے اکاؤنٹ ہولڈرس کی رہنمائی کریں کیونکہ عام طور پر بینکوں کے حکام اس طرح کی اسکیمات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں اور انشورنس کی رقم کی ادائیگی کیلئے ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
تمام خاندانوں کو چاہیئے کہ وہ فوت ہونے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیں اور اگر ان میں دونوں مرکزی اسکیمات میں سے کسی ایک کے تحت رقم درج کی گئی ہے تو وہ قانونی طور پر دو لاکھ روپئے کی رقم کے مستحق ہوں گے۔ بینک حکام کو انشورنس کی رقم فوری ادا کرنے کے سلسلہ میں عوامی نمائندوں اور سماجی تنظیموں کو اہم رول ادا کرنا چاہیئے۔



