

انقرہ : (ویب ڈیسک)تْرکی کے کوسٹ گارڈز نے کشتی خراب ہونے کے باعث سمندر میں بھٹکنے والے تارکین وطن کو بچالیا۔خبررساں اداروں کے مطابق کوسٹ گارڈز نے ضلع معلا کی تحصیل مارمرس کے کھلے سمندر میں کشتی میں خرابی کے باعث مسافروں کے ڈوبنے کی طلاع پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور کشتی میں سوار 79افراد کو بچالیا۔ ادھر چناق قلعہ کے علاقے میں بھی اسی طرح کے واقعے میں 19 مہاجرین کو بچایا گیا۔ دوسری جانب بودرم کے کھلے سمندر میں گشت کے دوران کھلے سمندر میں ڈوبنے والے 37تارکین وطن کو بچاکر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ قبل ازیں یونانی سرحدی فورسز نے 26 مہاجرین کے ایک گروہ کو کھلے سمندر میں دھکیل دیا تھا،
جنہیں ترکی کوسٹ گارڈز نے بچایا تھا۔ دوسری جانب اسپین پہنچنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق درجنوں افریقی مہاجرین کو لے کر جانے والی کشتی اسپین کے کیناری جزائر کے ایک جزیرے پر پہنچ گئی، تاہم ساحل تک پہنچتے پہنچتے کشتی میں سوار 3 مسافر ہلاک ہو چکے تھے۔ ہسپانوی حکام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن میں سے ایک ساحل پر پہنچنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔
کشتی میں 47 افراد سوار تھے، جن میں ایک خاتون اور بچے بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ نئے سال کے دوران یورپ پہنچنے کی کوشش میں تارکین وطن کی ہلاکتوں کا پہلا سانحہ ہے۔ واضح رہے کہ افریقہ اور دیگر پسماندہ ممالک کے باشندے بہتر مستقبل کا خواب لے کر یورپ کا سفر شروع کرتے ہیں اور اس دوران وہ اکثر بے رحم انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے دور طور پر بھی وہ بحیرئہ روم کے ذریعے اسپین ، یونان اور روم جانے کی کوشش میں اپنی جان گنوادیتے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں بھی اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (ائی او ایم) نے بتایا تھا کہ لیبیا کے ساحل کے قریب بحیرہ روم میں ایک کشتی ڈوب جانے سے کم از کم 74 مہاجرین ہلاک ہوگئے۔کشتی میں 120 سے زیادہ مہاجرین سوار تھے۔



